آزادی ،جس کی جستجوں میں ناجانے کیسے کیسے کڑیل جوانوں نے جاں کے نزرانے پیش کیے ،کتنی ماؤں کی گود ویراں ہوئ،ان گنت سہاگنوں کے سہاگ اجڑے ،لاکھوں معصوموں کو نیزوں میں پرویا گیا تو لاتعداد بہنوں کی عصمتیں تار تار ہوئ ۔کروڑوں بچوں نے یتیمی کا تاج پہنا تو پھر کہیں جا کہ خوں میں نہائ سحر آزادی طلوع ہوئ ۔

14 اگست 1947 صرف کیلنڈر پر نقش ایک دن نہی بلکہ لازوال قربانیوں،ازیتوں اور عظم و حوصلے کی داستان ہے جو سننے والوں کے رونگٹے کھڑے کر دیتی ہے
آزادی کی داستاں ایام،عشروں ،مہینوں یا سالوں پر نہیں بلکہ دہائیوں پر مشتمل ہے ۔
لاالہ کے نام پر حاصل کی گئ یہ سر زمیں پاک ہمارے اجدا د کی قربانیوں اور وفاؤں کی داستاں ہے جس کا لفظ لفظ لہو سے عبارت ہے جسکی اک اک سطر ہمت و استقلال اور درد کی لامحدود گہرائیوں کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے

1862 سے لیکر 1867 تک تایخ بر صغیر کے انتہائ الم ناک سال جس دوران 14 ہزارا علمائے دین کو بے رحمی سے قتل کیا گیا دہلی سے لیکر پشاور تک کوئ شجر ایسا نا ملتا تھا جس پہ ظالموں نے کسی مسلمان کا سر نا لٹکایا ہو ۔
وہ بادشاہی مسجد جو آج ہمارے لیے صرف تفریح گاہ ہے اس کے صحن میں ایک دن میں اسی ،اسی علماء کرام کو تختہ دار پہ لٹکایا گیا لیکن سلام ان مرد مجاہدوں پہ جن کے سر انگریزوں کے سامنت جھکنے سے انکاری رہے اور لاالہ کا ورد کرتے قربان ہوتے چلے گئے ۔
جب مسلمانان برصغیر پہ مایوسی کے بادل گھنے ہوتے چلے گئے تو چند عظیم ہستیوں نے انقلاب آزادی کا بیڑا اٹھایا ۔اک طرف اقبال کا خواب آزادی اور مسلمانوں کی بیداری کا جزبہ تھا تو دوسری طرف قائد اعظم کی ولولہ انگیز قیادت جس نے مسلمانوں میں نئ روح اور آزادی کی امنگ پیدا کی ۔23 مارچ کو قرار داد پاکستان کے منظور ہوتے ہی جہاں اک طرف مسلمانوں کی جدو جہد آزادی نے زور پکڑا وہی دشمنان اسلام کی سازشیں بھی کھل کر سامنے آنے لگی ۔آفرین ہے ان بزرگوں پر جنہوں نے اپنے خون سے اس تحریک آزادی کو سینچا اور بلاآخر14اگست 1947 کو لاکھوں قربانیوں کی بانہوں میں ،ہزاروں بہنوں کی عصمتوں کے تار تار آنچلوں کے سائے تلے ،ان گنت شہدا کی آغوش میں سرزمین مقدس پاکستان دنیا کے نقشے پر مانند آفتاب طلوع ہوا ۔

قر بانیوں کا سلسلی یہیں ختم نہی ہوجاتا بلکہ یہاں سے بھارتی سفاکیت کی اس داستان کا آغاز ہوتا جہاں پہ انسانیت بھی شرمسار ہے ۔پاکستان بننے کے بعد مسلمانوں نے ہجرت اختیار کی تو نہتے مسلمانوں کو مولی گاجر کی طرح کاٹا گیا ،عصمتوں کو تار تار کیا گیا ،بزرگوں نے کانپتے ہاتھوں سے جوان بیٹو ں کے لاشے اٹھائے ،ماؤں نے دودھ کیلیے بلکتے شیر خواروں کے گلے اپنے ہاتھوں سے گھونٹے تاکہ ان کی آواز سے دوسرے مسافروں کی جان خطرے میں نا آئے ،بہنوں ،بیٹیوں نے عزتوں کی پامالی کے ڈر سے کنویں میں چھلانگیں لگا کہ جانوں کا نزرانہ پیش کیا ۔مال دودلت،زر،زیور ،گھر بار عزتیں لٹائیں قافلوں نے جب سرزمیں پاکستان پر پہ پہنچے تو عجب منظر تھا ،آنکھوں سے اشک رواں تھے ،وطن کی مٹی کو چومتے جاتے تھے اور ایک ہی بات کہتے جاتے تھے پاکستان کا مطلب کیا ،لاالہ اللہ ۔
پاکستان کو بنے74 سال گزر گئے لیکن قربانیوں کی یہ داستاں آج بھی تازہ اور زبان زد عام ہے ،یہاں تک پہنچتے میرا قلم کئ بار رکا ،میرے اشک بے اختیار صفح قرطاس پہ بکھرے ،اور میں بارہا یہ سوچنے پہ مجبور ہوئ کی کیا ہم اس آزادی کا حق نبھا رہے ہیں ،کیا جس مقصد کی خطر یہ مملکت خداد حاصل کی گئ ہم اس مقصد میں کامیاب ہیں؟ اور ہر دفعہ عرق ندامت میری پیشانی پہ چمکا کہ
ستم یہ ہے کہ چہتر برسا کا ہو کے بھی
یہ بچہ پاؤں پہ ہم نے کھڑا نا ہونے دیا

۔آج ہم آزادی مبارک تو کہتے ہیں لیکن اسکے مفہوم کو نہی پہچانتے ،ہم گاڑی پہ پاکستانی جھنڈا تو لہراتے ہیں لیکن اس میں گانا انڈیا کا بجاتے ہیں .آج ہمارے لیے پاکستان کی بنی چیزیں گھٹیا ں اور غیر میعاری ہیں
وہ انڈیا جس نے نہتے مسلمانوں کو بے دریغ قتل کیا ہمارے کچھ حکمران انہیں سے دوستانے نبھاتے نظر آتے ہیں ۔
ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ،پاکستا صرف زمیں کا اک ٹکڑا نہی ہے اک نام نہی ہے بلکہ پاکستان دو قومی نظریہ کی سر خروئ کا نام ہے ۔پاکستان تو اک گوشہ عافیت کا نام ہے ،پاکستان کاہر زرہ اسلامی روائتوں کا امین ہے۔یہ وہی سرزمین ہے جسکا عشق ہمارے لہوں میں شامل ہے کیونکہ وطن سے محبت تو ایمان ہوتی ہے نا ،یہ ملک ہمارے آبا کی وفائ کا صلہ ہے ۔اسے ہم نے ہی سنوارنا ہے
اس کی ترقی اور فلاح و بہبود تبھی ممکن ہے جب ہم ملکر صدق دل سے کوشش کریں گے ۔

اگر چہ تیرا آج لہو رنگ ہے مگر
میں تیرا کل تو سنوار سکتا ہوں
اک عمر کیا میں ہزار عمریں آصف
تیرے سبز ہلالی پہ وار سکتا ہوں
@_Ujala_R

Shares: