مقبوضہ کشمیر میں مودی کا ظالمانہ لاک ڈاؤن تیسرے ماہ میں داخل
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جبر اور پابندیاں تیسرے ماہ میں داخل ہوگئیں اور ہر گزرتے دن کے ساتھ کشمیریوں پر سختیاں بھی بڑھتی جارہی ہیں،دوسری جانب مقبوضہ کشمیر میں ڈپٹی کمشنر کے دفتر پر تعینات پولیس اہلکاروں پر نامعلوم افراد نے گرنیڈ پھینک کر فرار ہوگئے،دھماکے کے نتیجے میں 14افراد زخمی ہوگئے۔
مقبوضہ کشمیر میں بھارت سرکار نے پانچ اگست کو کرفیو لگایا تھا جو تاحال جاری ہے، کرفیو میں کسی قسم کی نرمی نہیں کی جاتی، احتجاج کرنے والے کشمیریوں پر پیلٹ برسائے جاتے ہیں، 15 ہزار سے زائد کشمیری نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا ہے، کشمیری خواتین نے اپنے تحفظ کے لئے لاٹھیاں اٹھا لی ہیں، نہتے کشمیریوںپر بھارتی فوج سرچ آپریشن کے نام پر بے انتہا مظالم کرتی ہے، گزشتہ ایک ہفتے میں دس کشمیریوںکو شہید کیا جا چکا ہے.
ٹیلی فون، انٹرنیٹ ، ریل سب کچھ معطل ہے، کسی کو گھر سے نکلنے کی اجازت نہیں، کشمیری گھروں میں محصور ہیں، بیماروں کو ہسپتال نہیں جانے دیا جاتا، ادویات، خوراک کی قلت ہو چکی ہے، میڈیا پر بھی سخت پابندیاں عائد کی گئی ہیں، مساجد کو تالے لگے ہوئے ہیں، کشمیریوںکو نماز جمعہ ادا کرنے کی بھی اجازت نہیں دی جاتی
کشمیر میں کرفیو کے 2 ماہ، ایل او سی توڑنے بارے وزیراعظم کا بیان آ گیا
عمران کی تقریر کے بعد کشمیریوں کے عزم و حوصلے بلند ،کرفیو کے باوجود بھارتی فوج بے بس








