بز کوائن اسکیم کےنام سےبڑے فراڈ کا ڈراپ سین ہوگیا:مرکزی کردارگرفتار

0
48

اسلام آباد:وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے ’’بز کوائن‘‘ کے نام سے بڑی فراڈ اسکیم کے مبینہ ماسٹر مائنڈ کو گرفتار کرکے تحقیقات کا آغاز کردیا۔فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی نے ظفر علی رانا نامی شخص کو گرفتار کرلیا، جس پر شہریوں سے ’’بز کوائن‘‘ کے نام پر پُرکشش ماہانہ منافع کا لالچ دے کر سرمایہ حاصل کرنے کا الزام ہے۔

ایف آئی اے رپورٹ کے مطابق یہ اسکیم دراصل ملٹی لیول مارکیٹنگ (ایم ایل ایم) طریقۂ کار کے مطابق فراڈ کا تسلسل ہے تاہم ’بز کوائن‘ میں کرپٹو کرنسی کا بھی تڑکہ لگایا گیا اور سرمایہ کاروں کو کہا جاتا تھا کہ ’’بز کوائن‘‘ بٹ کوائن کا متبادل ہے، جس کی قیمت بٹ کوائن کی طرح بہت اوپر جائے گی۔

اس اسکیم کیخلاف درج ایف آئی آر میں نامزد دیگر افراد کا بھی اہم کردار ہے جس میں ذرائع کا کہنا ہے کہ نازش قریشی گزشتہ 20 سالوں سے ظفر رانا کا دست راست ہے اور اس کے تمام غیر قانونی کاموں کی نگرانی کرتا رہا ہے، جبکہ 2019ء کے بعد سے ’’بز کوائن‘‘ کو پاکستان میں پروموٹ کرنے میں نازش کے ساتھ مزمل شیخ بسمل، فرحان عارف اور سلمان ستار بھی شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق مذکورہ افراد اپنی پُرتعیش طرز زندگی اور ملک و بیرون ملک ٹورز اور مہنگی گاڑیوں سے سادہ لوح نوجوانوں کو متاثر کرکے سرمایہ کاری کی جانب راغب کرتے تھے۔

متاثرہ افراد کا کہنا ہے کہ ’’بز کوائن‘‘ میں سرمایہ کاری یورو کرنسی میں لی جاتی تھی اور سرمایہ کاری ایک سال کیلئے لاک کردی جاتی تھی، یعنی ایک سال سے پہلے واپس نہیں لی جاسکتی، جبکہ اس دوران ماہانہ منافع دیا جاتا تھا لیکن یہ منافع بہت زیادہ نہیں ہوتا تھا، البتہ یہ لالچ دی جاتی کہ ایک سال بعد ’بز کوائن‘ کی بٹ کوائن کی طرح قیمت بہت زیادہ بڑھ جائے گی، جس سے انہیں کئی گنا زیادہ منافع ملے گا تاہم ایک سال بعد ان کی اپنی ویب سائٹ پر بھی قیمت کم ظاہر کرکے کمپنی سرمایہ کاروں کی رقم ہڑپ کر جاتی ساتھ ہی انہیں دیگر افراد کو نیٹ ورک میں شامل کروانے کیلئے کمیشن ایجنٹ بھی بنوایا جاتا تھا۔

ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ ظفر علی رانا نے ’’گولڈن کی‘‘ نامی کمپنی سے ملٹی لیول مارکیٹنگ کا آغاز کیا بعد ازاں گولڈ مائن انٹرنیشنل، انرجیٹک مارکیٹنگ، ورلڈ جی این، ای فار ایم، ای ایم انٹرنیشنل، بز ٹریڈ، بز کوائن، کوانٹم ٹریڈ، نیکسٹ جین اور گرو نیٹ آن لائن کے نام سے شہریوں کو اربوں روپے سے محروم کرچکے ہیں، اس پورے دھندے میں انہیں برطانیہ میں بیٹھے 2 پاکستانیوں اور ایک بھارتی شہری کی سرپرستی بھی حاصل ہے۔

Leave a reply