ہاجرہ مسرور: برانٹی سسٹر کا یوم پیدائش

0
55

17 جنوری۔۔یومِ پیدائش۔
ہاجرہ مسرور
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نامور ادبی خانوادہ کی رکن، برانٹی سسٹر کے نام سے شہرت پانے والی معروف ادیبہ ہاجرہ مسرور کا آبائی تعلق لکھنئو سے تھا۔ جہاں وہ 17جنوری 1929ء کو پیدا ہوئیں۔ ان کے والد تہور احمد خان برطانوی فوج میں ڈاکٹر تھے۔ہاجرہ مسرور کے بچپن میں ہی، ان کے والد انتقال کرگئے اور خاندان کی ذمہ داری اُن کی والدہ کے کاندھوں پر آگئی۔ والد کے انتقال کے بعد ان کا گھرانا نامساعد حالات کا شکار ہوا اور انہوں نے سخت حالات میں پرورش پائی۔ ہاجرہ کی والدہ کٹھن وقت میں نہایت باہمت خاتون ثابت ہوئیں۔ انہوں نے اپنے بچوں کی تربیت اور پرورش نہایت اچھے انداز میں کی۔ ہاجرہ مسرور کی بہنیں خدیجہ مستور اور اختر جمال بھی اُردو کی معروف ادیب تھیں۔ ان کے ایک بھائی توصیف احمد صحافت سے وابستہ رہے جب کہ ایک اور بھائی خالد احمد کا شمار ممتاز شعرا میں ہوتا ہے۔

قیامِ پاکستان کے بعد ہاجرہ مسرور اپنے اہل ِ خانہ کے ساتھ پاکستان آگئیں اور لاہور میں سکونت اختیار کر لی۔ اُس زمانے میں لاہور پاکستان کی ادبی سرگرمیوں کا مرکز تھا اورخود ہاجرہ بطور کہانی و افسانہ نگار اپنا عہد شروع کر چکی تھیں ۔ان کی کہانیوں کو ادبی حلقوں میں ابتدا سے ہی بہت پذیرائی حاصل رہی تھی۔انیس سو اڑتالیس میں انہوں نے معروف ادیب احمد ندیم قاسمی کے ساتھ مل کر ادبی جریدہ ‘نقوش’ شائع کرنا شروع کیا۔ہاجرہ مسرور کی شادی معروف صحافی احمد علی خان سے ہوئی تھی ۔ جو روزنامہ پاکستان ٹائمز اور روزنامہ ڈان کے ایڈیٹر رہے۔
ہاجرہ مسرور کے افسانوں اور مختصر کہانیوں کے کم ازکم سات مجموعے شائع ہوئے، ان میں ‘چاند کے دوسری طرف’، ‘تیسری منزل’، ‘اندھیرے اُجالے’، ‘چوری چھپے’، ‘ ہائے اللہ’، ‘چرکے’ اور ڈراموں کا مجموعہ ‘وہ لوگ’ شامل ہیں ۔ ان کے افسانوں کا مجموعہ 1991ء میں لاہور کے ایک ناشر نے ‘ سب افسانے میرے’ کے عنوان سے شائع کیا۔ افسانوں اور مختصر کہانیوں کے علاوہ انہوں نے ڈرامے بھی لکھے تھے۔چند سال قبل آکسفرڈ یونی ورسٹی پریس نے بچوں کے لیے لکھی گئی اُن کی کئی کہانیاں کتابی شکل میں شائع کیں۔ انھیں ادبی خدمات کے اعتراف میں متعدد اعزازات سے نوازا گیا۔ حکومتِ پاکستان نے ادب کے شعبے میں ان کی نمایاں خدمات پر 1995ء میں تمغہ حُسنِ کارکردگی’ دیا۔ 2005ء میں انہیں ‘عالمی فروغِ اُردو ادب ایوارڈ’ سے بھی نوازا گیا۔

ہاجرہ مسرور نے پاکستانی فلمی صنعت کے اچھے دنوں میں کئی فلموں کے اسکرپٹ بھی لکھے۔ ان کے ایک اسکرپٹ پر پاکستانی فلمی صنعت کا سب سے بڑا اعزاز ‘نگار ایوارڈ’ بھی دیا گیا۔انہوں نے 1965ء میں بننے والی پاکستانی فلم ‘آخری اسٹیشن’ کی کہانی بھی لکھی۔ یہ فلم سرور بارہ بنکوی نے بنائی۔ ہاجرہ مسرور کا انتقال 15 ستمبر 2012 ء کو کراچی میں ہوا اور وہ ڈیفنس سوسائٹی کے قبرستان میں آسودہ خاک ہوئیں۔

Leave a reply