fbpx

اب يہ وائٹ ہاؤس کے سامنے دھرنا دے گا، مریم نواز

مریم نواز نے چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کے سی این این کے دیئے گئے انٹرویو پر کٹی نکتہ چینی کی ہے-

باغی ٹی وی : گزشتہ روز سابق وزیراعظم عمران خان نے مؤقر امریکی نشریاتی ادارے سی این این کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ امریکی سفارتکار ڈونلڈ لو کو برطرف کرنا چاہئیے –

میں کسی بھی معاملے کے فوجی حل پر یقین نہیں رکھتا،چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان

عمران خان کا کہنا تھا کہ ہ کسی بھی معاملے کے فوجی حل پر یقین نہیں رکھتا ہوں ڈونلڈ لو کو برطرف کرنا چاہیے، پاکستان کےاندورنی معاملات میں بھر پورمداخلت کی گئی ہمارے ٹرمپ انتظامیہ سے بہترین تعلقات تھے ،سائفر کو کابینہ میں پڑھ کرسنایاگیا، قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں بھی سائفر سامنے رکھا گیا امریکی عہدیدارنےکہاعدم اعتمادکامیاب ہوئی تومعاف کردیاجائےگا-

انہوں نے کہا تھا کہ ہمارے ٹرمپ انتظامیہ سے بہترین تعلقات تھے لیکن جوبائیڈن کے اقتدار میں آنے کے بعد دو طرفہ تعلقات میں بدلاؤ آیا، بائیڈن کی جانب سے مجھ سے کبھی رابطہ نہیں کیا گیا جوبائیڈن کے اقتدار میں آنے کے بعد دو طرفہ تعلقات میں بدلاؤ آیا، ڈونلڈ لو کی دھمکی سے پہلے امریکی سفارتخانہ ہمارےپارٹی ممبران کو بلاتا رہا-

انسانی معاشرے میں طاقتور اور کمزور کے لیے قانون برابر ہوتا ہے،عمران خان

تاہم سابق وزیر اعظم کے اس انٹرویو کے بعد مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز شریف کی جانب سے ردعمل سامنے آئے ہے-

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ ٹوئٹر‘ پر جاری کردہ بیان میں مریم نواز نے چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان پر طنز کرتے ہوئےکہا ہے کہ اب يہ امريکی حکومت سے استعفے مانگے گا۔

مریم نواز نے اپنی ٹوئٹ میں کہا کہ اب يہ امريکی حکومت سے استعفے مانگے گا پھر وائٹ ہاؤس کے سامنے دھرنا دے گا-

وزیراعظم کی آج جے یو آئی کے ارکان پارلیمنٹ کو ظہرانے کی دعوت،ن لیگ کا اجلاس بھی طلب