ٹرمپ کی حساس معلومات تک رسائی ختم کی جائے: بائیڈن حکومت

واشنگٹن :ٹرمپ کی حساس معلومات تک رسائی ختم کی جائے: بائیڈن حکومت نے حکم جاری کردیا ،اطلاعات کے مطابق وائٹ ہاوس کی ترجمان جین ساکی نے سابق امریکی صدر کی حساس اطلاعات تک رسائی ختم کرنے کی بات کی ہے۔

وائٹ ہاوس کی ترجمان جین ساکی نے کہا ہے کہ صدر جوبائیڈن سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حساس اطلاعات اور معلومات تک رسائی ختم کیے جانے کے خواہاں ہیں اور حکومت اس بارے میں جلد کوئی فیصلہ کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ صدر جوبائیڈن نے حساس اطلاعات تک ٹرمپ کی رسائی جاری رکھنے یا ختم کرنے کا معاملہ متعلقہ اداروں کے سپرد کر دیا ہے۔ وائٹ ہاوس کی ترجمان نے کہا کہ صدر جوبائیڈن کو امید ہے کہ متعلقہ ادارے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ملک کی حساس معلومات تک رسائی ختم کرنے کا فیصلہ کریں گے۔

ملک کی حساس نو‏عیت کی معلومات تک سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دسترسی کا معاملہ صدر جوبائیڈن اور وائٹ ہاوس کے دوسرے مکینوں کے لیے پریشانی اور تشویش کا باعث بنا ہوا ہے۔ امریکہ میں عام طور پر موجودہ اور سابق صدور کو ملک کی حساس اور اہم معلومات تک رسائی اب تک حاصل رہی ہے تاہم صدر جوبائیڈن کا خیال ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ ملک کے لیے ایک خطرہ شمار ہوتے ہیں، وہ غیر متوازن شخصیت کے مالک ہیں اور انہوں نے اپنے حامیوں کو کانگریس کی عمارت پر حملے کے لیے اکسایا بھی تھا۔

بائیڈن کے معاونین کا بھی کہنا ہے کہ انہوں نے ملک کی حساس اور اہم معلومات تک ٹرمپ کی رسائی کے خطرات کی نوعیت کے بارے میں اپنی انٹیلی جینس ٹیموں کو آگاہ کردیا ہے۔

دوسری جانب ہوم لینڈ سیکورٹی کے امریکی وزیر ایلیخاندرو میارکس نے کہا ہے کہ اس وقت ملک کو اندرونی دہشت گردی جیسے سنگین خطرات کا سامنا ہے۔ اپنے ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ ملک کے سیکورٹی ادارے چھے جنوری کو کانگریس کی عمارت پر کیے جانے والے خوفناک اور باغیانہ حملے سمیت اندرونی دہشت گردی کے دیگر واقعات سے نمٹنے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔

اس سے پہلے امریکی ایوان نمائندگان کی سربراہ نینسی پیلوسی نے کانگریس کی عمارت پر حملہ کرنے والے ٹرمپ کے حامیوں کو دہشت گرد قرار دیا تھا۔

قابل ذکر ہے کہ ٹرمپ کے حامیوں نے چھے جنوری کو کانگریس کی عمارت پر اس وقت حملہ کردیا تھا جب وہاں حالیہ صدارتی انتخابات میں الیکٹورل کالج میں ڈالے گئے ووٹوں کی توثیق کے لیے کانگریس اور سینیٹ کا مشترکہ اجلاس ہو رہا تھا۔ کانگریس پر ٹرمپ کے حامیوں کے حملے میں کم سے کم چھے افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے تھے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.