fbpx

پیکا ایکٹ:عدالت نے گرفتاریوں سے روک دیا،اٹارنی جنرل کو معاونت کے لیے نوٹس جاری

اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایف آئی اے کو پیکا ایکٹ کے سیکشن 20 کے تحت گرفتاریوں سے روک دیا۔

باغی ٹی وی : اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیکا ترمیمی آرڈیننس کیخلاف پی ایف یو جے کی درخواست پر سماعت ہوئی ۔ چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے سیکشن 20 کےتحت گرفتاریوں سے روک دیا پیکا ایکٹ میں صدارتی آرڈیننس کے ذریعے ترمیم کے خلاف درخواست پر اٹارنی جنرل کو معاونت کے لیے نوٹس جاری کر دیے گئے۔

فیٹف اجلاس شروع،پاکستان گرے لسٹ میں ہی رہے گا

چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے ریمارکس دیئے ہیں کہ ایف آئی اے پہلے ہی ایس او پیز جمع کرا چکی ہےا یس او پیزکے مطابق سیکشن 20 کے تحت کسی کمپلینٹ پر گرفتاری عمل میں نہ لائی جائے۔عدالت نے قرار دیا ہے کہ اگر ایس او پیز پر عمل نہ ہوا تو ڈی جی ایف آئی اے اور سیکرٹری داخلہ ذمہ دار ہوں گے۔

درخواست گزار وکیل عادل عزیز قاضی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ 17 فروری کو سینیٹ کا اجلاس ختم ہوا۔ 18 فروری کو قومی اسمبلی کا شیڈیول تھا۔ اجلاس کو اس لئے ختم کیا گیا کہ آرڈیننس لایا جا سکے۔ عدالت کے استفسار پر وکیل نے بتایا کہ سیکشن 20 میں ترمیم کے علاوہ نئی سیکشن بھی شامل کی گئی ہے جس کے تحت سزا تین سال سے پانچ سال کر دی گئی ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے پبلک فِگر کیلئے تو ہتک عزت قانون ہونا ہی نہیں چاہیے۔ ایڈووکیٹ عادل عزیز قاضی نے کہاکہ جو خود کو پبلک فِگر کہتا ہے وہ بھی تنقید سے نہ گھبرائے یہی ہم کہتے ہیں۔

عدالت نے پیکا ایکٹ کی سیکشن 20 کے تحت گرفتاریوں سے روکتے ہوئے اٹارنی جنرل کو معاونت کیلئے نوٹس جاری کردیا۔ عدالت نے ریمارکس دیئے ایف آئی اے پہلے ہی ایس او پیز جمع کرا چکی ہے۔ ایس او پیزکے مطابق سیکشن 20 کے تحت کسی کمپلینٹ پر گرفتاری عمل میں نہ لائی جائے۔ اگر ایس او پیز پر عمل نہ ہوا تو ڈی جی ایف آئی اے اور سیکرٹری داخلہ ذمہ دار ہوں گے۔ عدالت نے پیکا ایکٹ کیخلاف تمام درخواستیں یکجا کرتے ہوئے سماعت 24 فروری کیلئے ملتوی کردی۔

دوسری جانب پاکستان بار کونسل نے پیکا قانون میں کی جانے والی ترمیم کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس قانون کے بعد زرد صحافت کا خاتمہ ممکن ہوگا پاکستان بار کونسل کے ممبران چوہدری اشتیاق احمد اور منیر کاکڑ کی وزیر قانونی بیرسٹر فروغ نسیم سے ملاقات ہوئی، جس میں پیکا ایکٹ اور آرڈیننس پر بات کی گئی۔

پاکستان بار کونسل کے ممبران نے کہا کہ جو ترامیم پیکا قانون میں کی گئی ہیں ان کے ذریعے زرد (یلو) جرنلزم اور جعلی خبروں کا خاتمہ ہوگا کیونکہ غلط اور گمراہ کن خبروں کے تدارک کے لیے اس طرح کی ترمیم بہت ضروری تھی۔

مطمئن کریں ہتک عزت کا فوجداری قانون آئین سے متصادم نہیں،محسن بیگ کیس،حکمنامہ جاری

ممبران پاکستان بار کونسل نے کہا کہ جو لوگ اس قانون کی مخالفت کر رہے ہیں وہ من گھڑت خبروں کو پھیلانے میں مددگار ہیں، انڈیا کی جانب سے پاکستان کے خلاف قائم کردہ ڈس انفو لیب کی طرز کی من گھڑت خبروں کا خاتمہ اس قانون سے ممکن ہوگا، سچے معاشرے کی بنیاد میڈیا ڈالے گا اور پیکا کا نیا قانون اس میں مدد کرے گا۔

واضح رہے کہ پی ایف یو جے (پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ) نے پیکا قانون میں صدارتی آرڈیننس کے ذریعے ترمیم کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا پی ایف یو جے کی جانب سے رضوان قاضی نے وکیل عادل عزیز قاضی کے ذریعے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ حکومت نے پیکا قوانین میں آرڈیننس کے ذریعے ترمیم اس وقت کی جب ایک دن پہلے ایوان بالا کا اجلاس جاری تھا، حکومت نے ڈرافٹ پہلے ہی تیار کرلیا تھا، قانون سازی سے بچنے کے لیے سیشن کے ختم ہونے کا انتظار کیا گیا۔

درخواست میں کہا گیا تھا کہ آئین پاکستان جمہوری اقدار کو فروغ دینے کا مطالبہ کرتا ہے، آئین میں اظہار رائے کی آزادی شامل ہے، موجودہ حکومت کے دور میں میڈیا کو بند کیا جا رہا ہے، صحافیوں پر غیر اعلانیہ پابندیاں عائد کی گئی ہیں، نیا ترمیمی آرڈیننس صرف کچھ مخصوص قسم کے صحافیوں کو فروغ دینے، خبریں اور تنقید کی حوصلہ شکنی کے لیے ہے۔

محسن بیگ کیس میں ڈائریکٹر ایف آئی اے سائبر کرائم کو توہین عدالت کا نوٹس جاری

درخواست میں کہا گیا تھا کہ پیکا قانون میں ترمیم کے آرڈیننس کے اجرا کے لیے کوئی ہنگامی صورتحال پیدا نہیں ہوئی تھی، پیکا قانون میں ترمیم کے لیے قومی اسمبلی کا اجلاس بلایا جاسکتا تھا، حکومت کی جانب سے جلد بازی حکومت کے مذموم مقاصد ظاہر کرتی ہے، کوئی بھی ملک حکومتوں کے آمرانہ طرز عمل سے چل نہیں سکتا جہاں عوام کو صرف اظہار رائے کے اپنے بنیادی حق کو استعمال کرنے کی پاداش میں قید کیا جائے۔

درخواست میں مزید کہا گیا تھا کہ ملک میں آزادی اظہار کا قتل ملک میں جمہوریت کو سبوتاژ کرنے کے مترادف ہے، پیکا قانون میں یہ ترمیم حکومت کی طرف سے اپنے مخالفین کو شکست دینے کی ایک خام کوشش ہے، پیکا قانون اور اس میں ترمیم کو آئین پاکستان اور بنیادی حقوق کے منافی قرار دیا جائے۔

علاوہ ازیں پی ایف یو جے نے پیکا آرڈیننس کے خلاف اسلام آباد میں یکم مارچ کو درھرنا دینے کا اعلان کیا ہے دھرنے میں ملک بھر سے صحافتی تنظیموں کے نمائندے شریک ہوں گے۔ پی ایف یو جے کے سیکریٹری رانا عظیم کا کہنا تھا کہ پیکا آرڈیننس جاری کرکے حکومت نے آزادی صحافت پر شب خون مارا ہے، پی ایف یو جے پیکا آرڈیننس کی واپسی تک احتجاج جاری رکھے گی۔

جعلی خبروں کی روک تھام کیلئے 5 سال تک سزا کا آرڈیننس جاری ہوگیا

دوسری جانب اس ترمیم کو لاہور ہائی کورٹ میں بھی چیلنج کردیا گیا ہے جسےچوہدری سعید ظفر ایڈوکیٹ نے چیلنج کیا ہے۔ اپنی درخواست میں سعید ظفر ایڈووکیٹ نے وفاقی حکومت سمیت دیگر کو فریق بنایا ہے اور موقف اختیار کیا ہے کہ پیکا ترمیمی آرڈیننس کو صحافیوں کی آواز دبانے کے لیے لایا گیا ہے، حکومت پیکا ترمیمی آرڈیننس لا کر اپنے مذموم مقاصد پورا کرنا چاہتی ہے درخواست میں کہا گیا ہے کہ پارلیمنٹ کی موجودگی میں صدارتی آرڈی ننس جاری کرنا غیر آئینی ،غیر قانونی ہے، عدالت پیکا ترمیمی آرڈیننس 2022ء کو کالعدم قرار دے۔

دریں اثنا لاہور ہائی کورٹ بار کی قیادت نے پیکا ترمیمی آرڈیننس 2022ء کی مخالفت کی ہائیکورٹ بار نے مقامی وکیل کی جانب سے پیکا ترمیمی آرڈیننس کو چیلنج کرنے کے اقدام کی حمایت کردی اور کہا کہ صحافیوں کی آواز دبانے اور کالی بھیڑوں پر تنقید روکنے کے لیے آرڈیننس جاری کیا گیا، حکومت وقت نے کالے قانون کے ذریعے عوام الناس کے بنیادی حقوق پر ڈاکا ڈالنے کی کوشش کی۔

علاوہ ازیں اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے پیکا قانون میں آرڈیننس کے ذریعے ترمیم کی مذمت کرتے ہوئے مشترکہ مذمتی قرارداد جاری کردی، جس میں کہا گیا کہ آرڈیننس کے ذریعے پیکا قانون میں ترمیم صدر پاکستان اور وفاقی وزیر قانون کے طاقت کے استعمال کا نمونہ ہے، اس کالے قانون کو آرڈیننس کے ذریعے لانے کیلئے پارلیمنٹ کا سیشن ملتوی ہونے کا انتظار کیا گیا۔

پاکستان آسٹریلیا سے اپنے تعلقات کو اہمیت دیتا ہے:آرمی چیف