عدنان صدیقی حکومت کی جانب سے اپنے ہیروز کو نظرانداز کیے جانے پرافسردہ

0
24

پاکستان کے معروف اداکار عدنان صدیقی نے حکومت کی جانب سے اپنے ہیروز کو نظرانداز کیے جانے پر افسوس کا اظہار کیا ہے-

باغی ٹی وی : حال ہی میں پاکستانی ایتھلیٹ ارشد ندیم نے ٹوکیو اولمپکس میں جیولن تھرو مقابلے کے دوران پانچویں پویشن حاصل کی پاکستانی ایتھلیٹ طلحہ طالب ویٹ لفٹنگ مقابلوں میں صرف دو کلوگرام کے فرق سے میڈل کی دوڑ سے باہر ہوگئے۔

پاکستانی ایتھلیٹس کا کہنا تھا کہ اگر انہیں دنیا کے باقی اولمپکس کھلاڑیوں جیسی سہولیات ملتیں تو آج پورا پاکستان جشن منارہا ہوتا۔

پاکستان کے ان دونوں ایتھلیٹس کے نام ٹوئٹر پر کئی روز تک ٹرینڈنگ میں رہے اور لوگ حکومت اور متعلقہ اداروں سمیت اسپورٹس ایسوسی ایشن انتظامیہ پر زور دیتے نظر آئے کہ وہ ارشد ندیم اور طلحہ طالب جیسے ایتھلیٹس اور اسپورٹس شخصیات کو سپورٹ کریں تاکہ ان کی صلاحیتوں کو مزید نکھارا جاسکے۔


عدنان صدیقی نے بھی سوشل میڈیا ویب سائٹ ٹوئٹر پر اولمپیئن سے رکشہ ڈرائیور بننے والے قومی ہیرو محمد عاشق کی افسوسناک مثال شیئر کی۔ جنہیں حکومت کی جانب سے نظر انداز کیا گیا اور وہ اپنے ہی ملک کی طرف سے مایوس ہوکر 2018 میں اس دنیا سے چلے گئے۔

عدنان صدیقی نے اولمپیئن محمد عاشق کی تصویر شئیر کرتے ہوئے کہا کہ جب یہ میڈل (تمغے) لاتے ہیں تو انہیں ہیرو بنادیا جاتا ہے اور پھر انہیں مصائب اور مشکلات بھری زندگی گزارنے کے لیے چھوڑدیا جاتا ہے یہ چیمپئن ہمارا فخر اور ہماری ذمہ داری ہیں۔

پنجاب حکومت کا ارشد ندیم اور طلحہٰ طالب کو نقد انعام دینے کا اعلان

واضح رہے کہ اولیمپیئن سائیکلسٹ و قومی ہیرو محمد عاشق نے 1960 سے 1964 میں اولمپکس میں حصہ لے کر پاکستان کی نمائندگی کی تھی تاہم حکومتی سرپرستی نہ ہونے کے باعث وہ آخری ایام میں رکشہ چلانے پر مجبور ہوگئے تھے اور پھر انتہائی کسمپرسی کی حالت میں 83 برس کی عمر میں انتقال کرگئے۔

اپنی موت سے قبل محمد عاشق نے حکومتی رویے پر مایوسی کاا ظہار کرتے ہوئے کہا تھا میں اپنی جیتی ہوئی ٹرافیوں کو دیکھ کر ان کے خیالات میں کھوجاتا ہوں۔ میں لوگوں اور حکومت کے رویے سے حیران ہوں کہ مجھے یہ لوگ کیسے بھول گئے۔ میں پچھلے کئی سالوں سے لاہور کی سڑکوں پر رکشہ چلاکر اپنے اہل وعیال کے لیے روزی روٹی کماتاہوں۔

محمد عاشق نے رکشے پر اپنی سائیکلنگ کی ایک تصویر بھی لگائی ہوئی تھی اور تصویر کے ساتھ ایک کونے پر لکھا ہوا تھا اے حکمرانوں خیال کرو، قومی ہیرو کو سزا مت دو۔

Leave a reply