fbpx

افغانستان کو چھوڑنا غلطی ہے نتیجہ سنگین ہوگا جارج بش …تحریر عینی سحر

امریکہ کے سابق صدر جارج بش نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا کے انھیں بہت تشویش ہے امریکی اور نیٹو کی فوج کا افغانستان سے انخلا غلطی ہے اور اسکا نتیجہ ناقابل یقین حد تک برا ہوگا افغانستان کے لوگ وہاں کے بے رحم لوگوں کے ہاتھوں میں چھوڑ دئیے گۓ ہیں جو انھیں بے رحمی سے ذبح کرینگے انہوں نے کہا یہ سوچ کر انکا دل ٹوٹنا ہے جارج بش کا یہ بیان امرکی صدر جو بایڈن کے امریکی فوجوں نے افغانستان سے انخلا کے بیان
کے ایک ہفتے کے بعد آیا جس میں انہوں نے فیصلے پر کڑی تنقید کی اور اسے واضح طور پر ایک غلطی قرار دیا_
امرکی سابق صدر بش اس فیصلے کے بالکل حق میں نہیں اور سمجھتے ہیں کے اس فیصلے سے افغانستان کی خواتین کے حقوق کا استحصال ہوگا اور ان سے دوسرے درجے کے شہری کی حثیت جیسا سلوک ہوگا

اس سے قبل مئی میں سابق صدر بش نے اپنے انٹرویو میں کہا تھا وو نہیں سمجھتے یہ درست فیصلہ ہےافغانستان سے امریکی فوجوں کے انخلا سے خطے میں خلا پیدا ہوگا جو کے بھرا نہ جاسکے گا یہ سب کرنا ضروری نہیں تھا امریکی چلے جائیں گے تو وہاں کے لوگ خواتین کو دوسرے درجے کے شہری سمجھیں گے اور ان سے ناروا سلوک کرینگے جو قربانیاں ہماری فوج اور انٹیلیجنس نے دی ہیں وہ سب بھلا دی جائیں گیں
انہوں نے کہا یہ سب غیر ضروری تھا اب دعا یہ ہے کے یہ فیصلہ درست ثابت ہو

صدر جو بائیڈن کا کہنا ہے فوجی انخلا کی متوقع تاریخ جو کے ستمبر کی ہے اس سے قبل اکتیس اگست تک تمام امریکی فوجی واپس آچکے ہونگے

دوسری جانب وائٹ ہاؤس کی پریس سیکٹری جین میکاسی کا ہفتہ پہلے یہ بیان آیا کے یہ نہیں کہا جاسکتا کے ‘مشن اکامپلش ‘ کالمحہ آگیا ہو بیس سالہ کی اس جبگ کو عسکری لحاظ سے جیتا نہیں گیا جب جو بائیڈن سے پوچھا گیا کیا مشن اکامپلش ہوا انہوں نے کہا نہیں لیکن اتنا ہدف حاصل ہواکے انہوں نے القاعدہ کے مستقبل کے حملوں کو روک دیا اور اسامہ بن لادن کو ہلاک کر کے کسی حد تک کا مشن اکامپلش کیا

جو بائیڈن نے کہا یہ افغانستان کے لوگوں کا حق ہے وہ جیسے چاہیں ویسے اپنا ملک چلائیں انکی حکومت کی ذمہ داری ہے کے خودمختاری کی حفاظت کریں انہوں نے کہا ہم افغان فوج کو فضائی ، اخلاقی اور انسانی بنیادوں پر خاص طور پر خواتین کے حقوق کیلئے مدد جاری رکھیں گے لیکن پھر انہوں نے اس حوالے سے کے وہ یہ سب کیسے کریں گے جب وہ وہاں ایک بھی امریکی فوجی چھوڑنا نہیں چاہتے تواس پر انہوں نے سوال پوچھاآخر ہم امریکہ کے اور کتنے بیٹے اور بیٹیوں کو خطرے میں ڈالیں گے ؟
ان سے سوال پوچھا گیا کیا اب طالبان قبضہ نہیں کرینگے ؟ تو جو بائیڈن نے دو ٹوک کہا نہیں کیوں کے اب افغانستان محفوظ ہاتھوں میں ہے اب وہاں محض پچھتر ہزار طالبان کیخلاف تین لاکھ تربیت یافتہ مسلح افغان فوج ہے .
انہوں نے اپنی دلیل دیتے ہوۓ کہا آخر کب تک آپ اپنی فوج کو وہاں رکھیں گے لیکن اب میں امریکہ کی ایک اور نسل وہاں جنگ میں نہیں جھونکوں گا

یاد رہے افغانستان کی جنگ امریکہ کی سب سے لمبی جنگ رہی جسمیں چوبیس سو ہلاکتیں اور اکیس ہزار زخمی ہوۓ
اس بیس سالہ قیام میں امریکہ نے افغانستان کی تین لاکھ فوج کو طالبان سے مقابلے کی تربیت دی لیکن اس ساری تربیت کے باوجود طالبان اب تک پچاس ڈسٹرکٹ پر قبضہ کر چکے ہیں

یہی وہ نکتہ تھا جو پاکستانی وزیراعظم عمران خان نے ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات میں واضح کیا تھا کے کسی کیلئے بھی افغانستان میں جنگ جیتنا ممکن نہیں