fbpx

فغانستان سے نیٹو افواج کے انخلاء کے بعد پاکستان کو مزید چیلنجوں کا سامنا ہوگا : مصطفی کمال

پاک سرزمین پارٹی کے چیئرمین سید مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ افغانستان سے امریکی اور نیٹو افواج کے انخلائ کے بعد پاکستان کو مزید چیلنجوں کا سامنا ہوگا۔ ان سے نبرد آزما ہونے کے لیے ملک و قوم کو اندرونی طور پر مضبوط ہونا انتہائی ضروری ہے اور یہ تب تک ممکن نہیں جب تک سیاسی مفادات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اور ملک کے وسیع ترین مفاد میں پاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں متفقہ طور پر انتظامی اور انتخابی اصلاحات نہیں کرتیں، اس سلسلے کی سب سے بڑی زمہ داری تحریک انصاف کی وفاقی حکومت پر عائد ہوتی ہے کہ وہ پارلیمنٹ کے اندر اور باہر موجود تمام سیاسی جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس بلائے اور مشترکہ اور متفقہ انتظامی اور انتخابی اصلاحات کو یقینی بنائے۔
میرے دور میں تخواہیں، پیٹرول اور دیگر تمام اخراجات ملا کر 300 ارب روپے خرچ ہوئے اور ان سے ہونے والا ترقیاتی کام آج تک لوگ نہیں بھولے جبکہ سندھ حکومت 10320 ارب روپے 10 سالوں میں خرچ کرچکی، آج سندھ دنیا میں رہنے کے لائق بدترین جگہوں میں شامل ہے۔ پاک سر زمین پارٹی نے پاکستان کے تمام مسائل کے قابل عمل حل پیش کیے ہیں، یہی وجہ ہے آج کراچی سے کشمیر اور دنیا بھر میں موجود پاکستانی بڑی تعداد میں پی ایس پی میں شامل ہورہے ہیں، ان خیالات کا اظہار انہوں نے امریکہ کے شہر نیو یارک میں مقامی صحافیوں سے میڈیا ٹاک کرتے ہوئے کیا۔
اس موقع پر پی ایس پی امریکہ و کینیڈا کے نگران سید طاہر وفاقانی سمیت دیگر زمہ داران بھی موجود تھے۔ سید مصطفیٰ کمال نے مزید کہا کہ گزشتہ سال بڑے بڑے دعوے کیئے گئے تھے اس سال پھر بارشوں میں شہر کا حال سب کے سامنے ہوگا۔ لوگوں کو خود اپنے لیے سڑکوں پر نکلنا ہوگا ورنہ متعصبانہ سندھ حکومت اور نااہل وفاقی حکومت مل کر عوام کی زندگی اجیرن کرتے رہیں گے۔ عمران خان کی وفاقی حکومت کو آصف علی زرداری چلا رہے ہیں جس کے عوض پیپلز پارٹی کو سندھ مٹ کھلی چھٹی ملی ہوئی ہے اور شدید کرپشن کے باعث سندھ کے رہنے والوں کا نقصان ہو رہا ہے ۔