fbpx

مُلک کےمعاشی حالات ٹھیک نہیں:بجٹ کےبعد حکومت ایک ڈیڑھ ماہ میں رخصت ہوجائے گی:عمران خان

اسلام آباد:پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئر مین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ لگتا ہے طاقتور حلقے جاری سیاسی و معاشی بحران سے پریشان ہو چکے ہیں۔ بجٹ کے بعد حکومت ایک ڈیڑھ ماہ میں رخصت ہو جائے گی۔

بنی گالہ میں اینکر پرسنز اور سینئر صحافیوں سے ملاقات کے دوران عمران خان نے کہا کہ ملک کے موجودہ حالات کا سامنا کرنے کے لیے مضبوط قیادت کی ضرورت ہے، مضبوط قیادت شفاف الیکشن کے ذریعے ہی سامنے آ سکتی ہے، چیری بلاسم اینڈ کمپنی الیکشن کمیشن میں اپنے بندے بٹھا کر دھاندلی کرنا چاہتی ہے۔ موجودہ بجٹ کو آئی ایم ایف کسی صورت نہیں مانے گا، اس وقت پاکستان کو آئی ایم ایف اور دیگر ممالک امداد نہیں کر رہے، عالمی اداروں کو بھی موجودہ حکومت کی نا اہلی کا یقین ہے۔ آئی ایم ایف اور دیگر ممالک کو یقین ہے عوا م اس حکومت کے ساتھ نہیں۔

انہوں نے کہا کہ عدالتی فیصلے کا انتظار ہے، کوئی بھی یہ نہ سمجھے کہ لانگ مارچ ختم ہو گیا ہے، آنے والے دنوں میں اسلام اباد کارُخ کروں گا، ہم نے بڑی تعدد میں عوام کو سڑکوں پر نکال کر دکھایا ہے۔ الیکشن کمیشن کے ساتھ ساتھ دیگر بھی اہم تعیناتی کی جا رہی ہیں، پنجاب پولیس میں بھی بڑے پیمانے پر تبادلے ہو رہے ہیں۔ اہم تعیناتیوں، تقرر و تبادلوں کا واحد مقصد الیکشن چوری کی تیاری ہے، ہمیں معاملات کا اندازہ ہے اور مقابلہ کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ نے کہا کہ لگتا ہے طاقتور حلقے جاری سیاسی و معاشی بحران سے پریشان ہو چکے ہیں۔ بجٹ کے بعد لگتا ہے حکومت ایک ڈیڑھ ماہ میں رخصت ہو جائے گی۔ موجودہ سیاسی عدم استحام سے نکلنے کا واحد راستہ عام انتخابات ہیں۔ حکومت کے فسطائی ہتھکنڈوں کا بھرپور مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انتخابات کی تاریخ ملنے تک جدوجہد جاری رکھوں گا۔ مسلم لیگ (ن) کو کوئی راستہ نظر نہیں آ رہا، صرف ایک ہی حل ہے اور وہ ہے انتخابات ہیں، اگر ایسا نہیں ہوتا تو سارا ملبہ نیوٹرلز پرگرے گا۔ ہماری حکومت میں ملک بالکل ٹھیک جارہا تھا اور یہی بات نیوٹرلز کو بھی بتاتے رہے۔ حکومت کی تبدیلی سے بیرونی دنیا کا سارا اعتماد جاتا رہا ہے، وفاقی بجٹ دراصل چند ماہ کا بجٹ دیا ہے ناں کہ ڈیڑھ سال کا، اصل مسئلہ کرنٹ اکاونٹ ڈیفیسٹ کا ہے۔

پی ٹی آئی چیئر مین کا کہنا تھا کہ امپورٹڈ حکومت ملک کومعاشی تباہی کی طرف لے کر جا رہی ہے، جولائی سے کمر توڑ مہنگائی کا غریب عوام سامنا کیسے کریں گے۔ حکومت سے نکلنے کے بعد میرے سامنے 2 ہی راستے تھے، طاقتورحلقوں سے معافی مانگ کر پاؤں پکڑتا یا عوام کے پاس جاتا، میں نے دوسرا راستہ اپنایا اورعوام کے پاس گیا، لگ رہا ہے حالات سے پریشان تمام حلقے بحران سے نکلنے کا سوچ رہے ہیں۔ 3 برس مہنگائی کا رونا رویا جاتا رہا اب ثابت ہو گیا ہے کہ ان میں کوئی اہلیت نہیں ہے۔ ہم پر قرضے لینے کا الزام بھی غلط ہے، ہم نے 52 ارب ڈالر قرضہ لے کر 38 ارب ڈالر واپس کیا۔