fbpx

ہوائی اڈوں میں پھنسے پاکستانی عازمین حج کو سعودی حکومت نے سفر کی خصوصی اجازت دے دی

وزارت مذہبی امور کے ترجمان نے کہا ہے کہ لاہور، پشاور اور اسلام آباد کے ہوائی اڈوں میں پھنسے عازمین حج کو سعودی حکومت نے سفر کی خصوصی اجازت دے دی ہے۔ پھنسے ہوئے عازمین کسی بھی پرواز کے ذریعہ 7 ذوالحج رات 12 بجے تک جدہ کے ہوائی اڈے پر اتر سکیں گے ۔

ترجمان نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ وفاقی وزیر مذہبی امور مفتی عبدالشکور نےخصوصی اجازت دینے پر سعودی حکام کا شکریہ ادا کیا ہے۔مسئلہ کے فوری حل کیلئے سعودیہ میں تعینات پاکستانی سفیر اور حج مشن کی کوششیں قابل تحسین ہیں۔ نجی حج سکیم کے 123 عازمین حج کو ایئر بلیو اور سعودی ایئر کے ذریعے پہنچایا جا رہا ہے۔

اسلام آباد ایئرپورٹ پر موجود 25 سرکاری عازمین حج کو پشاور اور لاہور سے روانہ کیا جا رہا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ حج ویزہ کے حامل عازمین کو جدہ ایئر پورٹ پر 7 ذی الحج کی رات 12 بجے تک اترنے کی خصوصی اجازت ہے ۔ حج ویزہ کے حامل عازمین حج کسی بھی پرواز کے ذریعے جدہ ایئرپورٹ کا سفر کر سکیں گے۔ حج ویزہ کے حامل افراد خود بھی پہلی دستیاب پرواز کے ذریعے متعین وقت سے پہلے جدہ ایئر پورٹ پہنچ سکتے ہیں ۔

جدہ ایئرپورٹ پر پاکستان حج مشن کا عملہ عازمین حج کی رہنمائی و سہولت کیلئے موجود ہے۔پروازوں سے رہ جانے والے سرکاری و نجی عازمین حج متعلقہ حاجی کیمپ یا ٹور آپریٹر سے فوری رابطہ کریں۔ حاجی کیمپوں کے ذریعے آخری حج پروازوں سے رہ جانے والے عازمین حج سے رابطہ کیا جا رہا ہے۔

پاکستان حج مشن مکہ نے عازمین حج کو مناسک حج کی ادائیگی کیلئے منیٰ روانہ کرنے کے انتظامات کو حتمی شکل دیدی ہے۔

عازمین کو بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب منیٰ پہنچانے کا کام مکمل کرلیا جائے گا۔ پاکستان حج مشن کی جانب سے رواں سال مشاعر میں کئے گئے انتظامات کے مطابق منی میں تمام پاکستانی حجاج کو ٹھہرانے کیلئے جمرات کے قریب اولڈ منیٰ میں جگہ حاصل کی گئی ہے جس کی وجہ سے انہیں مزدلفہ سے واپسی پر رمی کرنے کیلئے زیادہ مسافت طے نہیں کرنی پڑے گی۔ 9 ذی الحج جمعہ کو حج کے رکن اعظم “وقوف عرفات” کیلئے عازمین میدان عرفات روانہ ہونگے جہاں وہ ظہر اور عصر کی نمازیں ایک ساتھ ادا کرینگے۔

وقوف عرفات کے بعد نماز مغرب پڑھے بغیر حجاج کرام میدان عرفات سے مزدلفہ پہنچیں گے جہاں وہ ایک ساتھ مغرب اور عشا کی نمازیں ادا کرینگے۔ مزدلفہ سے شیطان کو مارنے کیلئے کنکریاں چنیں گے۔ رات کھلے آسمان تلے گزارنے کے بعد دسویں ذی الحج کو نماز فجر کی ادائیگی اور طلوع آفتاب کے فورا بعد منی روانہ ہونگے۔

جہاں کچھ دیر آرام کرنے کے بعد جمرات جائیں گے اور بڑے شیطان کو کنکر ماریں گے۔ کنکریاں مارنے کے بعد قربانی کرکے بال منڈوا کر احرام کھول دینگے۔ اسی طرح گیارہ اور بارہ ذوالحج کو بڑے، درمیانے اور چھوٹے شیطان کو بھی کنکریاں مارنا مناسک کا حصہ ہے۔ پاکستان حج مشن مکہ کے مطابق حجاج کو مشاعر پہنچانے کیلئے مکاتب کی بسیں حاصل کرلی گئی ہیں جو عازمین کو ان کی عمارت سے لے کر منی پہنچائیں گی اسی طرح انہیں بسوں کے ذریعے ہی میدان عرفات تک پہنچانے کا انتظام کرلیا گیا ہے۔

اس دوران مناسک حج کی ادائیگی کے دوران حجاج کوموسسہ جنوبی ایشیا کی جانب سے کھانا فراہم کرنے کا بھی انتظام کرلیا گیا ہے۔ ان تمام انتظامات کی روشنی میں توقع کی جارہی ہے کہ حج 2022 کے موقع پر حاجیوں کو مناسک حج کی ادائیگی میں کوئی مشکل پیش نہیں آئے گی تاہم حجاج کرام سے گزارش کی گئی ہے کہ شیطان کو کنکریاں مارنے کیلئے اپنی سہولت اور آرام کے مطابق وقت کا انتخاب کریں۔واضح رہے کہ احرام کھولنے کے بعد حجاج کرام 10سے ب12 ذی الحج کے درمیان کسی بھی وقت بیعت اللہ شریف آکر طواف زیارت کر سکتے ہیں۔ طواف زیارت میں بیعت اللہ شریف کے 7 چکر اور سعی شامل ہے۔