fbpx

آخر اور کتنے گھر اجڑیں گے.. تحریر: احمد فراز

ابھی خبر دیکھی کہ بس اور ٹریلر کے حادثہ میں 40 افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ 30 مسافروں کی حالت تشویشناک ہے اتنی جانوں کے نقصان پر افسوس تو ہے لیکن اس سے بھی زیادہ خطرناک یہ بات ہے کہ ایسے واقعات آئے روز ہوتے رہتے ہیں لیکن ہم تھوڑی دیر بعد بھول جاتے ہیں اور ان واقعات کی روک تھام کیلئے کوئی قدم نہیں اٹھاتے…

لیکن ہم شروع کریں بھی تو کہاں سے

ڈرائیور حضرات اندھا دھند تیز رفتار سے گاڑیاں چلاتے ہیں اس پر تشویشناک بات تو یہ ہے کہ 90 فیصد ڈرائیور کسی نا کسی طرح کے نشہ کے زیر اثر ہوتے ہیں پھر بسوں کی حالت بھی قابل رحم ہوتی ہے چالیس پچاس سال پرانی بسیں اس قابل کہاں رہ جاتی ہیں کہ وہ ہزار بارہ سو کلومیٹر روزانہ چلائی جا سکیں پھر ہمارے ہاں گاڑیوں کی جانچ پڑتال کر کے سرٹیفکیٹ دینے کا نظام بھی بہت کمزور ہے اکثر تو گاڑیاں گھر بیٹھے ہی پاس ہو جاتی ہیں اور پھر رشوت دو بیشک بس کے نام پر چھکڑا بھی پاس کروا لیں
ٹریفک کنٹرول سسٹم بھی تو ہمارے ہاں ناکارہ ہے لائسنس رشوت دیکر بن جاتے چاہے کوئی اندھا بنوا لے اور ٹریفک پولیس تو لگتا بس چالان کاٹنے اور رشوت لینے کیلئے ہے ٹریفک کی بہترین روانی اور محفوظ سفر کیلئے یہ کہیں دکھائی نہیں دیتے…
پھر بحیثیت ڈرائیور ہم سب بھی ذمہ داری کا مظاہرہ نہیں کرتے ہیلمیٹ پہننا، سیٹ بیلٹ لگانا،رفتار کا خیال رکھنا اور ٹریفک قوانین کی پابندی کرنا ہمیں بے عزتی محسوس ہوتی ہے

اب تو ہمیں سمجھنا ہو گا اور ہر ایک کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا حکومت اور متعلقہ اداروں کو نظام بہتر بنانا ہو گا اور عام عوام کو بھی با شعور ہونا اور قوانین کا پابند ہونا ہو گا تبھی ہم اپنے سمیت کئی گھر اجڑنے سے بچا سکتے ہیں