بحیرہ احمر میں امریکی جنگی اورتجارتی بحری جہازوں پر حملے

حوثیوں کی جانب سے اس حملوں پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا
0
163
America

واشنگٹن: امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کا کہنا ہے کہ بحیرہ احمر میں امریکی جنگی جہاز اور دیگر تجارتی بحری جہازوں پر حملے ہوئے ہیں،جبکہ امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے کہا ہے کہ ‘غزہ کے شہریوں کا تحفظ اسرائیل کی اخلاقی ذمہ داری کے ساتھ ساتھ سٹریٹجک ضرورت بھی ہے اس لیے ہم اسرائیل کو مسلسل زور دے کر بتاتے رہیں گے کہ شہریوں کو تحفظ دے اور ان کے لیے امدادی بہاؤ میں تیزی آنے دے-

باغی ٹی وی: غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق پینٹاگون کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اتوار کو بحیرہ احمر میں ایک امریکی جنگی بحری جہاز اور متعدد تجارتی بحری جہازوں پر حملہ کیا گیا، جو اسرائیل اور حماس کی جنگ سے منسلک مشرق وسطیٰ میں سمندری حملوں میں ممکنہ طور پر ایک بڑے اضافے کی نشاندہی کرتا ہے بحیرہ احمر میں ہوئےحملوں سے آگاہ ہیں مزید تفصیلات آنے پر شیئر کریں گے تاہم پینٹاگون نے اس بات کی نشاندہی نہیں کی کہ حملے کس مقام پر ہوئے، البتہ حوثی باغی کی جانب سے بحیرہ احمر میں بحری جہازوں پر حملے کیے جارہے ہیں۔

پاکستان ترقی پذیر ممالک کے موسمیاتی مالیات کیلئےایک توانا آواز اور پرزورحامی رہا ہے،نگران …

غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق ایک امریکی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر انٹیلی جنس معاملات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ حملے صبح تقریباً 10 بجے یمن کے شہر صنعا میں ہوئے اور تقریباً پانچ گھنٹے تک جاری رہےحوثیوں کی جانب سے اس حملوں پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا، تاہم حوثی فوج کے ایک ترجمان نے اس سے قبل کہا تھا کہ ایک اہم بیان جلد ہی جاری کیا جائے گا،اس سے قبل برطانوی فوج نے بھی بغیر کسی تفصیلات بتائے کہا تھا کہ بحیرہ احمر میں بحری جہازوں پر ڈرون حملہ اور دھماکے ہوئے ہیں۔

غزہ: جبالیہ کیمپ پر اسرائیلی فضائی حملے، مکمل رہائشی بلاک منہدم

دوسری جانب امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے کہا ہے کہ غزہ کے شہریوں کا تحفظ اسرائیل کی اخلاقی ذمہ داری کے ساتھ ساتھ سٹریٹجک ضرورت بھی ہےیہ کام اولین ضرورت بھی ہے، اہم ترین بھی، صحیح ترین بھی اور اسرائیل کے لیے سٹریٹجک اہمیت کا بھی حامل بھی۔ ‘ آسٹن نے یہ بات رپورٹرز سے بات کرتے ہوئے کہی ہے۔

العربیہ کے مطابق انہوں نے اس موقع پر اسرائیل کی غزہ میں جنگ کا امریکہ کی عراق میں جنگ سے تقابل کرتے ہوئے کہا امریکہ نے عراق میں داعش جیسی دہشت گرد تنظیم کے خلاف آبادی کے اندر لڑائی لڑی ہے اس کا سبق جو میں نے لمبے عرصے میں عراق میں لڑی جانےوالی جنگ سے سیکھا ہے۔ اس میں شہری جنگ کے حوالے سے ایک دو باتیں بہت اہم ہیں ، کیونکہ انہیں کی وجہ سے ہم داعش کو عراق میں شکست دینے میں کامیاب ہوئے، میں سمجھتا ہوں حماس کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے۔ ‘

لائیڈ آسٹن نے کہا کہ داعش کے شہروں میں بڑے اثرات بن چکے تھے۔ اس لیے بین الاقوامی جنگی اتحاد کو شہروں میں داعش کے خلاف لڑائی میں بہت سخت محنت کرنا پڑی تاکہ شہریوں کوجنگ کےباوجود بچایاجا سکےاور انسانی بنیادوں پر بھی چیزیں آگےبڑھا سکیں ہم نے عراق میں جنگ کے دوران اس چیز کا مشکل ترین وقتوں میں بھی خیال رکھا ۔’

امریکی وزیر دفاع نے زور دیتے ہوئے کہا ‘ شہروں کے اندر جنگ جیتنے کی ایک ہی صورت ہے کہ آپ شہریوں کی ہلاکتیں نہ کریں بلکہ انہیں تحفظ دیں آپ نے اس طرح کی جنگوں میں دیکھا ہے جنگ کا مرکز ثقل شہری آبادی ہی ہوتی ہے۔ اس لیے اگر آپ انہیں ہی دشمن کے بازوں اور اسلحے کی طرف دھکیل دیں گے تو آپ کی اسلحے کی بنیاد پر ہونے والی فتح سٹریٹیجک شکست میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ ‘

انہوں نے کہا اس بارے میں وہ اسرائیلی اعلیٰ عہدے داروں کو بار بار واضح طور پر بتا چکے ہیں میں انہیں کہا ہے کہ فلسطینی عوام کو غزہ میں ہلاکتوں سے بچانا اسرائیل کی اخلاقی ذمہ داری کے علاوہ حکمت عملی کی ضرورت بھی ہے۔

Leave a reply