آرمی چیف سے علماو مشائخ کی ملاقات، پاکستان تمام پاکستانیوں کا ہے۔آرمی چیف

فورم نے افغان سرزمین سے پیدا ہونے والی دہشت گردی پر پاکستان کے موقف اور تحفظات کی مکمل حمایت کی
0
216
coas

آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر سے علمائے کرام و مشائخ کی ملاقات ہوئی ہے

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق تمام مکاتب فکر کے سرکردہ علمائے کرام و مشائخ کی آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر،نشانِ امتیاز (ملٹری) سے جنرل ہیڈ کوارٹرز، راولپنڈی میں ملاقات ہوئی ہے، اس موقع پر علمائے کرام و مشائخ نے متفقہ طور پر انتہا پسندی، دہشت گردی اور فرقہ واریت کی مذمت کی، علمائے کرام و مشائخ نےملک میں رواداری، امن اور استحکام لانے کے لیے ریاستی اور سیکیورٹی فورسز کی انتھک کوششوں کے لیے اپنی بھرپور حمایت جاری رکھنے کا عزم کیا،

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق اس موقع پر علماء کرام کا کہنا تھا کہ ”اسلام امن اور ہم آہنگی کا مذہب ہے اور بعض عناصر کی طرف سے مذہب کی مسخ شدہ تشریحات صرف ان کے ذاتی مفادات کے لیے ہیں جس کا اسلامی تعلیمات سے کوئی تعلق نہیں ہے“ ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے انتہا پسندوں اور دہشت گردوں کے ذریعے پھیلائے جانے والے گمراہ کن پروپیگنڈے کے خاتمے کے لیے مذہبی علماء کے فتویٰ ”پیغام پاکستان“ کو سراہا. آرمی چیف نے علماء و مشائخ سے گمراہ کُن پروپیگنڈے کی تشہیر اور اس کے تدارک اور اندرونی اختلافات کو دور کرنے پر زور دیا، آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے فکری اور تکنیکی علوم کے ساتھ ساتھ قرآن و سنت کی تفہیم اور کردار سازی کے لیے نوجوانوں کو راغب کرنے میں علمائے کرام کے کردار کی نشاندہی بھی کی،

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق فورم نے متفقہ طور پر حکومت پاکستان کی جانب سے غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کی وطن واپسی، ایک دستاویزی نظام (پاسپورٹ)کے نفاذ، انسداد اسمگلنگ اور ذخیرہ اندوزی اور بجلی چوری کے خلاف اقدامات کی حمایت کی، فورم نے افغان سرزمین سے پیدا ہونے والی دہشت گردی پر پاکستان کے موقف اور تحفظات کی مکمل حمایت کی۔ فورم نے پاکستان کے تحفظات کو دور کرنے کے لیے افغانستان پر سنجیدہ اقدامات کرنے پر زور دیا، فورم نے غزہ میں جاری جنگ اور غزہ کے نہتے فلسطینیوں پر ڈھائے جانے والے مظالم پر بھی غم و غصے کا اظہار کیا اور انہیں انسانیت کے خلاف جرائم قرار دیا.

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق اس موقع پر آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کا کہنا تھا کہ ”بغیر کسی مذہبی، صوبائی، قبائلی، لسانی، نسلی، فرقہ وارانہ یا کسی اور امتیاز کے پاکستان تمام پاکستانیوں کا ہے۔ ریاست کے علاوہ کسی بھی ادارے یا گروہ کی طرف سے طاقت کا استعمال اور مسلح کارروائی ناقابل قبول ہے.

غزہ سے فلسطینیوں کی جبری بے دخلی سنگین جرم ہے، آرمی چیف

دہشت گردی کے ناسور کا بہت ہی بہادری سے مقابلہ کررہے. آرمی چیف

نوجوان فکری وسائل بروئے کار لاکر درپیش چیلنج کا حل تلاش کریں۔ آرمی چیف

عمان کی رائل آرمی کے کمانڈر کی آرمی چیف سے ملاقات

یوم تکریم شہدائے پاکستان کے موقع پر جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) میں مرکزی تقریب 

یوم تکریم شہدائے پاکستان کی مناسبت سے نغمہ جاری

ہندو برادری بھی شہداء کی عزت و تکریم کے لئے میدان میں آ گئی

آرمی چیف جنرل عاصم منیر سے قطر آرمڈ فورسز کے چیف آف اسٹاف کی ملاقات

Leave a reply