اسدعمر نے الیکشن کمیشن کا شوکاز نوٹس عدالت میں چیلنج کردیا

0
36

پی ٹی آئی رہنما اسدعمرنے الیکشن کمیشن کاشوکاز نوٹس عدالت میں چیلنج کردیا۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے 19 اگست کو چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان، فواد چوہدری اور اسد عمر کو توہین الیکشن کمیشن کا نوٹس جاری کیا گیا تھا۔ نوٹس کے ذریعے الیکشن کمیشن نے تینوں رہنماؤں کو 30اگست کو طلب کرلیا ہے، اور انہیں ذاتی حیثیت یا بذریعہ وکیل پیش ہونے اور تحریری جوابات بھی ساتھ لانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

جبکہ پی ٹی آئی کے رہنما اسدعمر نے الیکشن کمیشن کا شوکاز نوٹس سندھ ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا ہے۔ اسد عمر نے اپنی درخواست میں مؤقف پیش کیا ہے کہ الیکشن کمیشن کا نوٹس بلاجواز اور غیرقانونی ہے۔
سندھ ہائی کورٹ کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے رہنما اسد عمر کا کہنا تھا کہ ہمیں توہین الیکشن کمیشن کا نوٹس دیا گیا ہے، غیرقانونی نوٹس کے خلاف درخواست دائر کی ہے، پی ٹی آئی کے خلاف اس کی قانون میں کوئی گنجائش نہیں۔

اسد عمر نے کہا کہ الیکشن کمیشن کوئی عدالت نہیں، سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ آرٹیکل 204 کے تحت کارروائی کرسکتی ہے، سیاہ کوسفیداورسفید کوسیاہ کرتارہےاورہم مانتے رہیں ایسانہیں ہوگا۔
سیلابی صورتحال کے حوالے سے اسد عمر کا کہنا تھا کہ تمام پاکستانی سیلاب متاثرین کی مددکررہے ہیں، عمران خان نے بھی متاثرین کی مدد کی ہدایت کی ہے، عمران خان کو فنڈ ریزنگ کا کہا جارہا ہے اس پرغور کر رہے ہیں۔

دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی ممنوعہ فنڈنگ کیس سے متعلق تحقیقات کیلئے فیڈرل انوسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) نے 6 ممالک کو معلومات کے حصول کیلئے خط ارسال کردیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ 6 ممالک کو خط فنانشل مانیٹرنگ یونٹ کے زریعے لکھا گیا ہے جس میں آسڑیلیا،کینیڈا سے وہاں کی کمپنیز بارے معلومات اسسٹنس مانگی گئی ہیں جبکہ سنگارپور سے ناصر نامی شخص اور عبیدہ شیٹی بارے معلومات کا تقاضا کیا گیا ہے۔

اسی طرح یو اے ای میں بھی دو کمپنیز اور متحدہ عرب امارات کے ایک کرکٹ کلب اور ابراج گروپ بارے بھی معلومات و اسسٹنس کے لیے خط لکھا گیا ہے۔ ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ امریکہ میں بھی دو کمپنیز بارے معلومات کے لیے لکھا گیا ہے، تمام کمپنیز وہاں سے آپریٹ ہونے والے اکاؤنٹس سے پی ٹی آئی کے مختلف رہنماؤں کو ٹرانزیکشن ظاہر ہوئی تھیں۔

یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے ایف آئی اے بیرون ممالک سے تحقیقات کے رجوع کرنے کا عندیہ دے رکھا تھا اور حالیہ خط اسی سلسلے کی کڑی ہے۔

Leave a reply