fbpx

اثاثے کہاں سے آئے؟ شریف فیملی کا وہ "شریف” کون جس نے نیب کو سب بتا دیا

اثاثے کہاں سے آئے؟ شریف فیملی کا وہ "شریف” کون جس نے نیب کو سب بتا دیا

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق لاہور ہائیکورٹ میں شہبازشریف کی درخواست ضمانت کی سماعت ہوئی

عدالت نے نیب پراسیکیوٹر کو ضمانت کیس پر دلائل دینے کی ہدایت کردی نیب پراسیکیوٹر نے گزشتہ روز اعظم نذیر تارڑ کے آبزرویشن پر اعتراض اٹھا دیا ،اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ نیب توہین عدالت کا نوٹس دلوانا چاہتی ہے،نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ تین دن بعد فیصلہ تبدیل کردیا گیا، کیا یہ عدالت کیخلاف نہیں ہے،اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ 27 سال میں ایسا نہیں ہوا ،اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ میں اب بھی اپنے الفاظ پر قائم ہوں ،عدالت نے کہا کہ آپ کی ذمہ داری ہے کہ خود پڑھ کر فیصلہ اپنے سائل کو بتائیں ،عدالت نےنیب پراسیکیوٹر کو ضمانت کیس پر دلائل دینے کی ہدایت کر دی ،نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ اعظم نذیر تارڑ کی یہ بات توہین عدالت کے زمرے میں آتی ہے ،عدالت نے نیب پراسیکیوٹر کو اس مسئلے پر مزید بحث کرنے سے روک دیا .جسٹس عالیہ نیلم نے نیب پراسیکیوٹر کو ہدایت کی کہ آپ صرف کیس پر بات کریں ،

نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ شہباز شریف کے بے نامی داروں کو متعدد نوٹسز جاری کیے،ہم نے پوچھا کہ بتائیں کہ اثاثے کہاں سے آئے؟ حمزہ شہباز کے علاوہ کسی نے کوئی جواب نہیں دیا، 1990 میں ان کے اثاثے 2.5ملین تھے اور 1998 میں 41 ملین ہو گئے ،ہم نے وراثت میں ملنے والے اثاثوں کو ریفرنس میں شامل نہیں کیا ہم نے 2005 کے بعد کے اثاثوں کو شامل کیا جب پہلی بار ٹی ٹیز ان کے اکائونٹ میں آئیں ،جب ٹی ٹیز کی رقم آنا شروع ہوئیں ،پراپرٹیز بننا شروع ہوئیں، عدالت نے نیب پراسیکیوٹر سے سوال کیا کہ کیا یہ پراپرٹی نصرت شہباز کو بطور گفٹ ملی؟ نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ یہ پراپرٹی نصرت شہباز کے نام پر لی گئی، ایل ڈی اے جوڈیشل کالونی میں حمزہ شہباز کی پراپرٹی کی مالیت 136 ملین ہے،اسلام آباد میں دو ویلاز بھی تہمینہ درانی کے نام ہیں،391کنال زمین چینیوٹ میں حمزہ اور سلمان کے نام ہے،نصرت شہباز کے نام پر 299 ملین کے اثاثے ہیں، عدالت نے استفسار کیا کہ جب ٹی ٹیز آنا شروع ہوئیں اس وقت سلمان شہباز کی عمر کیا تھی ؟ نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ سلمان شہباز کی اس وقت عمر 23 سال تھی

نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ حمزہ شہباز پر 533 ملین روپے کی منتقلی کا الزام ہے شہباز شریف کے 1990ء میں 2 اعشاریہ 1 ملین روپے کے اثاثے تھے 1998ء میں شہباز شریف کے اثاثے 41 ملین ہوگئے ، شہباز شریف نے 1990 میں 21 لاکھ کے اثاثے ظاہر کیے 1997 میں شہباز شریف وزیر اعلی پنجاب بنتے ہیں 1998 میں یہ 21 لاکھ سے 1 کروڑ 48 لاکھ تک پہنچ جاتے ہیں، 2018 میں انکے اثاثوں کی مالیت 7 ارب 32 کروڑ تک پہنچ جاتی ہے، جب حمزہ شہباز سیاسی مہم پر جاتے تھے تو لوگ پارٹی فنڈ دیتے تھے،جن کے نام سے ٹی ٹیز آئیں ان کا کہنا تھاوہ ملک سےکبھی باہرنہیں گئے،شہباز شریف کے وکیل نے کہا کہ پیسے کہاں سے کیوں آئے اس کا جواب نیب کے پاس نہیں ،جسٹس علی باقر نجفی نے کہا کہ یہ جور قم آتی رہی ہے اس کا مقصد بھی ہوگا کس نے بھیجی یہ بتائیں، جب آپ آمدن سے زائد اثاثہ کیس کرتے ہیں توغیرقانونی ذرائع بھی تو دیکھتے ہیں،

جب ٹی ٹیز کی رقم آنا شروع ہوئیں اسکے بعد پراپرٹیز بننا شروع ہوئیں آج وہ پراپرٹیز کج تفصیلات پیش کریں گے جو انہیں وراثت میں نہیں ملیں، 2005 سے پہلے انکے پاس کوئی پراپرٹی نہیں تھی، نشاط لارجز ڈونگا گلی کی پراپرٹی کی مالیت 57 ملین سے زاید کی ہے یہ پراپرٹی نصرت شہباز کے نام پر ہے عدالت نے استفسار کیا کہ کیا یہ پراپرٹی نصرت شہباز کو بطور گفٹ ملی، نیب نے کہا کہ یہ پراپرٹی نصرت شہباز کے نام پر لی گئی ایل ڈی اے جوڈشل کالونی میں حمزہ شہباز کی پراپرٹی کی مالیت 136 ملین ہے،تہمیہ درانی کے نام پر 10 مرلے کا گھر اور 10 مرلے کا گھر ہے،اسلام آباد میں دو ولاز بھی تہمینہ درانی کے نام ہیں 391 کنال زمین چینیوٹ میں حمزہ شہباز اور سلمان شہباز کے نام ہے اس زمین کج مالیت 95 ملین سے زائد ہے 13 انڈسٹریل یونٹ جو 2005 کے بعد بنائے گیے انکی مالیت 2 ارب 70 کروڑ ہے،اس میں سے 2 ارب کے اثاثے 2008 سے 2018 میں بنائے گیے یونی ٹاس، گڈ نیچر نثار ٹریڈنگ کمپنیاں بے نامی ہیں 2016 سے 2018 تک ان کمپنیوں میں 2 ارب سے زائد کی انوسٹمنٹ ہے، نصرت شہباز کے نام پر 299 ملین کے اثاثے ہیں اور ان کے اکاونٹ میں 26 ٹی ہیز اپٸیں ،سلمان شہباز کے اثاثے دو ارب پچیس کروڑ ہیں جن میں 150 ٹی ٹیز آٸیں جن کی مالیت ایک ارب 60کروڑ بنتی ہے ، حمزہ کے 533ملین اثاثے ہیں جن میں 133ٹی ٹیز شامل ہیں رابعہ کے نام پر 58 ملیں کے اثاثے ہیں اور دس ٹی ٹیز ان کے اکاونٹ میں آٸیں ،الجلیل گارڈن نے پارٹی فنڈ کے لیے بیس لاکھ دیے جو انہوں نے اپنے ملازمین کی کمپنیوں میں جمع کرواٸے ،پیسے شہباز شریف کے اکاونٹ میں نہیں آٸے مگر ان کےگھرانے کےافراد کے نام پر آٸے ، جب شہباز شریف کو چاہیے ہوتے تو ان کےگھرانے کے افراد ان کی ضرورت کے مطابق رقم دے دیتے،

عدالت نے کہا کہ جو ٹی ٹیز آتی تھیں ان کے ذراٸع کیا تھے ، آخر وہ رقم کہاں سے آتی تھی جو ٹی ٹیز کے ذریعے بھجواٸی گٸی ، آپ یہ بتاٸیں کہ کیا نیب نے تفتیش کی کہ یہ رقم کیا کک بیکس کی ہے یا کرپشن کی ، آپ کو تو یہ کرنا چاہیے تھا کہ آپ تفتیش کرتے کہ ان کے غیر قانونی ذراٸع کیا تھے ، اگر ا ن کے گھر میں آپ کے مطابق کروڑوں روپے آتے تھے تو وہ دیتا کون تھا ،آپ کے مطابق یہ پیسہ غیر قانونی ہے تو کسی وجہ سے ہی کمایا ہو گا انہوں نے، آپ نے تفتیش کی کہ کس جگہ پر کک بیک لیے کس جگہ کرپشن کی ، آپ کے مطابق جو اثاثے ذراٸع آمدن سے زیادہ ہیں وہ کیا زیر غور ہیں ، نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ شہباز شریف منی لانڈرنگ کیس کے مرکزی ملزم ہیں، حمزہ شہباز، سلمان شہباز اور دیگر اہلخانہ منی لانڈرنگ میں اعانت جرم دار ہیں، ملزم شہباز شریف کو گرفتار ہوئے ابھی 7 ماہ ہوئے ہیں، ابھی ایسے غیر معمولی حالات نہیں پیدا ہوئے جس بنیاد پر ملزم کو ضمانت دی جائے،عدالت نے کہا کہ کیا شہباز شریف نے ٹرائل کورٹ میں التواء کی استدعا کی؟ نیب نے کہاکہ شہباز شریف کے وکلاء نے کئی بار ٹرائل کورٹ میں التواء کی درخواست دی،

شہباز شریف کی درخواست ضمانت کی سماعت تین رکنی فل بنچ نے کی، بینچ کی سربراہی جسٹس علی باقر نجفی نے کی۔ جبکہ دیگر ججوں میں جسٹس عالیہ نیلم اور جسٹس شہباز رضوی شامل ہیں۔ جسٹس اسجد جاوید گھرال کے اختلافی نوٹ کی بنا پر چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس قاسم خان نے فل بنچ تشکیل دیا تھا۔

شہباز شریف کی ضمانت کی درخواست کے موقع پر ن لیگی رہنما مریم نواز،رانا ثناء اللہ، رانا ارشد سمیت دیگر ن لیگی رہنما بھی عدالت میں موجود تھے

شہباز شریف نے لاہور ہائیکورٹ میں ضمانت کی درخواست دائر کی تھی،درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ منی لانڈرنگ کا ریفرنس دائر ہو چکا ہے اور ٹرائل جاری ہے ،کوئی ٹرانزیکشن شہباز شریف کے نام پر نہیں ہے۔ شہباز شریف کی جانب سے کہا گیا کہ کئی ماہ سے جیل میں قید ہوں، تمام ریکارڈ نیب کے پاس ہے،نیب نے ریکوری نہیں کرنی، عدالت ضمانت پر رہائی کا حکم دے ۔

شہباز شریف بیٹی کے ہمراہ عدالت میں پیش، حمزہ شہباز جیل میں ہوئے بیمار

جج صاحب،میں آج عدالت میں یہ چیز لے کر آیا ہوں،عدالت نے شہباز شریف کو دیا کھرا جواب

شہباز شریف عدالت پہنچ گئے،نیب کی شہباز شریف کی ضمانت کی درخواست مسترد کرنے کی استدعا

شہباز شریف کی ممکنہ گرفتاری، سی سی پی او لاہور ہائیکورٹ پہنچ گئے، اہم حکم دے دیا

شہبازشریف خاندان کے خلاف منی لانڈرنگ ریفرنس،تحریری حکم نامہ جاری

شہباز شریف کو بکتر بند گاڑی میں عدالت پیش کرنے پر تحریری حکم جاری

شہباز شریف خاندان کے کتنے افراد اشتہاری قرار دے دیئے گئے؟

شہباز شریف کا عدالت پیشی کے موقع پر کس شخصیت سے ہوا ٹیلی فونک رابطہ؟

شہباز شریف کی جیل میں طبیعت ناساز، 8 رکنی میڈیکل بورڈ جیل پہنچ گیا

سینیٹ انتخابات، شہباز شریف سے کون کونسی اہم شخصیات ملنے پہنچ گئیں؟

شہباز شریف کے کتنے ارب اثاثوں کی تفصیلات نہیں مل رہیں؟ نیب کا عدالت میں انکشاف

واضح رہے کہ شہباز شریف کو نیب نے ضمانت کی درخواست مسترد ہونے پر گرفتار کیا تھا، عدالت نے انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر بھیج دیا تھا ، شہباز شریف کو عدالت میں بکتر بند گاڑی میں پیش کیا جاتا ہے جس پر ن لیگ نے احتجاج کیا تھا،

https://baaghitv.com/shehbaz-sahreef-case-court-nay-nabko-kis-momalaty-par-baat-say-rok-dia/

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.