fbpx

خلابازوں کی خلا میں سال کی پہلی چہل قدمی

بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کے باہر 2 خلابازوں سے 7 گھنٹے اور 21 منٹ خلا میں گزارے

فلوریڈا:بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کے باہر 2 ضلا بازوں سے رواں سال خلا میں پہلی چہل قدمی کی ہے۔2 خلابازوں نے جمعہ کو 2023 کی پہلی اسپیس واک کا آغاز کیا جب وہ بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کے پاور جنریشن سسٹم کو اپ گریڈ کرنے کے لیے کام کر رہے تھے۔

انسان ایک بار پھر چاند پر چہل قدمی کریں گے:ناسا کا اعلان

امریکی خلائی ادارے ’’ناسا‘‘ (NASA)کی خلاباز نکول مان (Nicole Mann) اور جاپان کے سرکاری خلائی ادارے جاپان ایرو اسپیس ایکسپلوریشن ایجنسی (the Japan Aerospace Exploration Agency) سے تعلق رکھنے والے خلاباز کویچی وکاٹا ( Koichi Wakata) نے رواں سال (2023) کے دوران خلا میں پہلی چہل قدمی کا اعزاز اپنے نام کیا۔

ناسا کے پہلے مشن اپالو7 کے آخری خلاباز انتقال کر گئے

ناسا کے مطابق کویچی وکاٹا اور نکول مان نے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (ISS)کے پاور جنریشن سسٹم کو اپ گریڈ کرنے کے لیے کام کے دوران 7 گھنٹے اور 21 منٹ خلا میں گزارے۔اس دوران دونوں ماہرین نے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کے بالاکل آخری حصہ میں بجلی کی فراہمی سے متعلق ایک پرزہ (kit) نصب کیا۔

ناسا کی جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نےزندگی کیلئے موافق سیاروں کا ایک جتھہ دریافت کر…

یاد رہے کہ چند دن پہلے ناسا سے تعلق رکھنے والے امریکی خلا باز والٹر کننگھم اپالو پروگرام 7 کا حصہ تھے جنہوں نے1968 میں خلا میں 11 دن کا کامیاب مشن کیا اور انہیں خلا سے ٹی وی پر براہ راست نشریات پر ایمی ایوارڈز سے بھی نوازا گیا۔

دو ستاروں کی دریافت پر ’ناسا‘ کی طرف سے سعودی خاتون سائنسدان کی ستائش

والٹر کننگھم نے ایک سال سے بھی کم عرصے میں اپالو 11 کے چاند پر اترنے کی راہ ہموار کی، ناسا نے کننگھم کی موت کی تصدیق کی، اور کہا کہ والٹر نے ہمارے چاند پر اترنے کے کامیاب پروگرام میں اہم کردار ادا کیا ہے دنیا نے ایک اور حقیقی ہیرو کو کھو دیا ہے، اور ہم اسے بہت یاد کریں گے۔