بیٹی…!!! بقلم:جویریہ بتول

بیٹی…!!!
(بقلم:جویریہ بتول)۔
بیٹی تو رونقِ چمن ہے…
بیٹی سے مہکتاگھر کا آنگن ہے…
بیٹی مسکراتی ہوئی کلی ہے…
جو کھِلے تو لگتی کتنی بھلی ہے…
بیٹی کا وجود باعثِ رحمت ہے…
بیٹی کی بہت ارفع حرمت ہے…
بیٹی گھر کی زینت بنائے…
بیٹی ہر فن تا زیست دکھائے…!!!
بیٹی ماں باپ کی ہمدرد و ہمراز ہے…
بیٹی کے لہجے میں سوز و گداز ہے…
بیٹی کا وجود صدائے وفا ہے…
شرم و حیا رہی بیٹی کی اَدا ہے…
بیٹی کا دل نرمی کا مسکن ہے…
تُرشی وبغاوت جہاں بہت کم ممکن ہے…
بیٹی شبِ دیجور میں ڈھارس کا دِیا ہے…
بیٹی نے ہر دور میں ہر زخم سِیا ہے…
بیٹی سدا سے مصالحت پر کاربند ہے…
بیٹی تخلیقِ سکون میں کارآمد ہے…
بیٹی کی فطرت سدا مسکراتی ہے…
اس کی مسکراہٹ کئی خوشیاں لاتی ہے…
گر اس کی آنکھوں میں نین چمکتے ہیں…
تو درد پھر کئی غیب سے اُٹھتے ہیں…!!
اس بیٹی کی کمزوری کی لاج رکھنا…!!!
اس بیٹی کا خیال کل اور آج رکھنا…
یہ بیٹی چُپ کی گہری تصویر ہے…
بیٹی کے بول میں گہری تاثیر ہے…
بیٹی کے دل میں نہ کوئی ارماں رہے…
بیٹی جب اپنے گھر سے اُڑاں بھرے…
محبتوں اور چاہتوں کا سمندر لیئے…
بیٹی سکوں سے جا اگلے آنگن میں اُترے…
وہ لمحہ بھی ہوتا کتنا بھاری ہے…؟
کہ آنگن پہ ہوتی اُداسی طاری ہے…
تربیت کے اثرات مرتب ہوں اُس پر…
ورنہ پھر انگلیاں اُٹھیں گی توکس پر؟؟
اس بیٹی کی جو پرورش و تربیت ہے…
وہ شاہراۂ جنت کی قربت ہے…!!!
=============================
(جویریات ادبیات)۔
¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.