fbpx

بھلے ملک ڈوب جائے یا اس سے بھی بڑی آفت آجائے عمران خان جلسے اور کمپین نہ روکے. جاوید چودھری

بھلے پورا ملک ڈوب جائے یا اس سے بھی بڑی آفت آجائے لیکن سابق وزیر اعظم عمران خان اپنے جلسے اور کمپین نہ روکے.
میری عمران خان سے

سینئر اینکرپرسن جاوید چودھری کا کہنا ہے کہ: درخواست ہے کہ آپ جلسے نہ روکیں چاہے کچھ بھی ہو جائے، بھلے سارا ملک برباد ہو جائے کروڑوں لوگ بھی سیلاب میں مر جائیں لیکن آپ پیچھے نہ ہٹیں اور اگر اس سے بھی زیادہ آفت آ جائے آپ اپنی کمپین نہ روکیں۔ لہذا اگر آپ اسے جہاد سمجھتے ہیں تو اس جہاد کو جاری رکھیں۔

انہوں نے عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ: ملک بچے نہ بچے لوگ رہیں نہ رہیں لیکن آپ اپنا کام جاری رکھیں اور ہاں جو شخص آپ کو یہ رائے دے کہ آپ لوگوں کے پاس جائیں سیلاب زدگان کی بحالی میں مدد کریں اور متاثرین کو ریسکیو کریں تو ظاہر ہے وہ لفافہ ہی ہو گا اور وہ شخص نہ صرف آپ کا پکا دشمن ہو گا بلکہ ملک کا بھی دشمن ہے.

جاوید چودھری نے مزید کہا کہ: میں کم از کم خود کو ملک دشمن سے نکال کر آپ کو یہ مشورہ دے رہا ہوں اور آپ سے درخواست کر رہا ہوں کہ لگے رہیں خان صاحب رکنا نہیں ہے بلکہ زیادہ بڑی مہربانی ہو گی کہ تین وقت جلسہ کیا کریں صبح، دوپہر، شام جس طرح لوگوں کو تین وقت دوائی کھلائی جاتی ہے اور جب تک آپ تھکتے نہیں ہیں تب تک کام جاری رکھیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ: باقی ملک ٹھیک ہے یا نہیں ہے پھر بھی کوئی ایشو نہیں ہے میں اب اس سے زیادہ تبصرہ نہیں کر سکتا خان صاحب میرا خیال ہے کہ آپ کو یہ کام جاری رکھنا چاہئیے. لہذا راجن پور بھی جائیں جہاں پر چار سو بستیاں تباہ ہو گئی ہیں سوات، جنوبی پنجاب، اور بلوچستان میں جو لوگ مر گئے ہیں ان کے ساتھ بھی خطاب کر آئیں اور دریاؤں کے کنارے پر جائیں وہاں سٹیج لگائیں مائک لگائیں ڈی جے بٹ کو بھی ساتھ لے جائیں وہاں پر ایک بھرپور جلسہ کر کے پھر واپس آ جائیں.

جاوید چودھری نے مشورہ دیا کہ: اگر جلسوں سے آپ کا کام چل سکتا ہے اور اگر جلسوں سے روکنے والے لوگ لفافہ ہیں تو پھر میرا خیال ہے کہ آپ جاری رکھیں آپ کو نہیں روکنا چاہیے اور نہ ہی کوئی روک سکتا ہے اور اگر اس حالت میں بھی آپ یہ سمجھتے ہیں کہ سیاست جہاد ہے تو پھر آپ کو یہ جہاد مبارک ہو اور جاری رکھنا چاہئیے۔

واضح رہے کہ جاوید چودھری ان صحافیوں میں سے ہین جنہوں نے عمران خان کے دور میں بھی ان پر تنقید کی ہے.

جاوید چودھری نے ایک مرتبہ کہا تھا کہ: "ہمارے موجودہ وزیراعظم عمران خان ان لطیفوں کو اب نیکسٹ لیول پر لے گئے ہیں‘ماضی اب چھوٹا لطیفہ محسوس ہوتا ہے مثلاً ہم ان کے منہ سے معاشی ترقی کے دعوے سن سن کر تھک چکے ہیں‘ حکومت روز دعویٰ کرتی ہے لارج اسکیل مینوفیکچرز نے ہزار ارب روپے کما لیے‘ حکومت نے زرعی شعبوں میں چودہ سو ارب روپے ڈال دیے‘ تجارتی خسارہ کم ہو گیا‘ گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی پیداوار بڑھ گئی۔

زرمبادلہ کے ذخائر تاریخی سطح پر پہنچ گئے اور تارکین وطن نے ملک میں ڈالروں کے انبار لگا دیے وغیرہ وغیرہ لیکن جب کارکردگی کی سند دینے کا وقت آیا تو وزیرخزانہ شوکت ترین کا نام بری کارکردگی یا ناکام وزراء کی فہرست میں آ گیا‘ وزیراعظم آج بھی 27 فروری 2019 کو بھارت کے دو جنگی طیارے گرانے اور بھارتی پائلٹ ابھی نندن کی گرفتاری کا کریڈٹ لیتے ہیں لیکن یہ وزیردفاع پرویز خٹک کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہیں۔”

انہوں نے مزید کہا تھا کہ: