بھارت اور چین نےاپنے ملکوں میں ایک دوسرے کے صحافیوں کے ویزوں میں توسیع مسترد کردی

0
24

بھارت اور چین نے اپنے اپنے ملکوں میں ایک دوسرے کے صحافیوں کی موجودگی بالکل ختم کردی۔

باغی ٹی وی: روئٹرز کے مطابق بھارت اور چین نے جمعرات کو ایک دوسرے پر نئی دہلی اور بیجنگ میں تعینات اپنے صحافیوں کے لیے ویزا کی پریشانیاں پیدا کرنے کا الزام لگاتے ہوئے تازہ سفارتی جھگڑا شروع کر دیایہ تبادلہ اس وقت ہوا جب بھارت نے چین کی طرف سے مشرقی ریاست ارونچال پردیش میں 11 مقامات کے نام تبدیل کرنے پر اعتراض کیا تھا، جسے چین جنوبی تبت کہتا ہے اور اس کا دعویٰ کرتا ہے۔

وس کی "جاسوس وہیل” سویڈن کے ساحلوں پر پہنچ گئی

رپورٹ کے مطابق بھارت اور چین نے حالیہ ہفتوں میں ایک دوسرے کے تقریباً تمام صحافیوں کو نکال دیا، بھارت نے ملک میں موجود چین کے آخری دو صحافیوں کے ویزے میں توسیع مستردکردی ہے، دونوں چینی صحافیوں کا تعلق چین کے سرکاری میڈیا سے ہے ادھر چین نے بھی بھارتی صحافیوں کے کاغذات نمائندگی مسترد کر دیئے ہیں۔

بھارتی ذرائع نے روئٹرز کو بتایا کہ ہندو اخبار اور ریاستی نشریاتی ادارے پرسار بھارتی کے نامہ نگاروں کو منگل کو بتایا گیا کہ ان کے ویزے منجمد کر دیے گئے ہیں۔

ویزا کی معطلی کے بارے میں پوچھے جانے پر، چینی وزارت خارجہ کے ترجمان ماؤ ننگ نے جمعرات کو کہا کہ چینی صحافیوں کے ساتھ بھارت میں طویل عرصے سے غیر منصفانہ اور امتیازی سلوک روا رکھا گیا ہے، اور حال ہی میں شنہوا کے ایک صحافی کو 31 مارچ تک بھارت چھوڑنے کو کہا گیا تھا جبکہ چین نے ہمیشہ ہبھارتی صحافیوں کے ساتھ اچھا سلوک کیا ہے انہوں نے کہا کہ چینی حکام بھارتی حکومت کے ساتھ رابطے میں ہیں، جس نے جواب نہیں دیا اور نہ ہی غلطی کو درست کیا۔

اکستان میں غلطی سے میزائل فائرنگ کے واقعہ،حکومت کو 24 کروڑبھارتی روپے کا نقصان برداشت …

ماؤ نے مزید کہا کہ س لیے چین کو ہمارے جائز مفادات کے تحفظ کےلیےاسی طرح کے جوابی اقدامات کرنے ہوں گےچین بھارتی صحافیوں کو چین میں کام کرنے کا خیرمقدم کرتا ہے۔ اگر ہندوستان اپنی غلطیوں کو سدھار سکتا ہےتو چین چین میں بھارتی صحافیوں کو سہولت فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔

نئی دہلی میں، وزارت خارجہ کے ترجمان ارندم باغچی نے کہا کہ بھارت کو امید ہے کہ "چینی حکام چین سے اپنی مسلسل موجودگی اور رپورٹنگ میں سہولت فراہم کریں گے۔”

جوہری ہتھیاروں سے لیس دونوں ممالک کے درمیان تعلقات 2020 کے وسط سے خراب ہو گئے ہیں، جب چینی اور بھارتی فوجیوں کے درمیان ان کی متنازعہ ہمالیہ سرحد پر جھڑپ ہوئی، جس میں 24 افراد ہلاک ہو گئے۔

چین میں قدیم مسجد منہدم کرنے پرجھڑپیں،سینکڑوں پولیس اہلکارتعینات

بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ سرحد پر صورتحال نازک اور خطرناک ہے، کچھ جگہوں پر فوجی دستے ایک دوسرے کے بہت قریب تعینات ہیں۔

خیال رہے کہ جون 2020 میں سرحدی جھڑپ کے بعد سے بھارت اور چین کے تعلقات مسلسل کشیدہ ہیں، چین نے حال ہی میں مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے جی 20 اجلاس کا بھی بائیکاٹ کیا تھا۔

Leave a reply