بھٹو صدارتی ریفرنس،سپریم کورٹ کل اپنی رائے سنائے گی

0
72
bhutto

سپریم کورٹ بھٹو صدارتی ریفرنس پر اپنی رائے کل سنائے گی

سپریم کورٹ نے رائے سنانے کیلئے تمام فریقین کو نوٹسز جاری کردئیے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسی سربراہی میں 9 رکنی لارجر بینچ نے 4 مارچ کو صدارتی ریفرنس پر رائے محفوظ کی تھی،،جسٹس طارق مسعود، جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس امین الدین، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس مسرت ہلالی لارجر بینچ کا حصہ تھے

صدارتی ریفرنس کی سماعت کے دوران رضا ربانی نے دلائل دیئے،رضا ربانی نے کہا کہ بھٹو کیس کے وقت لاہور ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ آئین کے تحت کام نہیں کر رہے تھے، اس وقت ملک میں مارشل لاء نافذ تھا، بنیادی انسانی حقوق معطل تھے، اس وقت استغاثہ جنرل ضیاء تھے، اس وقت اپوزیشن اور حکومت کے درمیان نئے الیکشن کے لیے معاملات طے ہو چکے تھے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا کوئی معاہدہ بھی ہو چکا تھا؟رضا ربانی نے کہا کہ معاہدے پر دستخط ہونے باقی تھے لیکن پھر مارشل لاء نافذ کر دیا گیا، 24 جولائی کو ایف ایس ایف کے انسپکٹرز کو گرفتار کیا گیا، 25 اور 26 جولائی کو ان کے اقبالِ جرم کے بیانات آ گئے، مارشل لاء دور میں زیرِ حراست ان افراد کے بیانات لیے گئے، اس وقت مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر، چیف جسٹس پاکستان، قائم مقام چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کا ٹرائی اینگل تھا، ذوالفقار علی بھٹو کی برییت سے تینوں کی جاب جا سکتی تھی،

جسٹس یحییٰ آفریدی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ رضا ربانی آپ کہہ سکتے ہیں کہ حسبہ بل میں عدالتی رائے بائنڈنگ تھی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ حسبہ بل میں کتنے جج صاحبان تھے؟جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ حسبہ بل کے صدارتی ریفرنس میں بھی 9 جج صاحبان تھے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم بھی 9 ہی جج ہیں، کوئی اختلاف بھی کر سکتا ہے،رضا ربانی نے کہا کہ احمد رضا قصوری پر حملوں کے 1976 تک چھ مقدمات درج ہوئے کسی ایف آئی آر میں بھٹو کو نامزد نہیں کیا گیا،رضا ربانی نے کہا کہ اس وقت جج جج نہیں تھے، مختلف مارشل لاء ریگولیشن کے تحت کام کر رہے تھے، مارشل لاء ریگولیشن کے باعث ڈیو پراسس نہیں دیا گیا، بیگم نصرت بھٹو نے بھٹو کی نظر بندی کو چیلنج کیا تھا، اسی روز مارشل لاء ریگولیشن کے تحت چیف جسٹس یعقوب کو عہدے سے ہٹا دیا گیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ رضا ربانی صاحب آپ کتنا وقت لیں گے؟ ہم نے آج سماعت مکمل کرنی ہے، جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ آپ ہمیں پھانسی کے بعد منظر عام پر آنے والے تعصب کے حقائق کی تفصیلات تحریری طور پر دے دیں

رضا ربانی کے دلائل مکمل ہو گئے، آصفہ بھٹو، بختاور بھٹو اور صنم بھٹو کے وکیل رضا ربانی نے دلائل مکمل کر لیے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے استفسار کیا کہ کیا سپریم کورٹ صدارتی ریفرنس میں مختصر رائے بھی دے سکتی ہے؟عدالتی معاون رضا ربانی نے کہا کہ عدالت ایسا کر سکتی ہے، سپریم کورٹ مکمل انصاف کی فراہمی کیلئے آرٹیکل 187 کا استعمال کرسکتی ہے، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اگر ہم نے آرٹیکل 187کا استعمال کیا وہ رائے کے بجائے فیصلہ ہوجائے گا،

جس کیس میں بھٹو کو سزا دی گئی، اس ایف آئی آر میں نامزد ہی نہیں کیا گیا تھا،عدالتی معاون

سپریم کورٹ میں ذوالفقار بھٹو کی پھانسی پر صدارتی ریفرنس کی سماعت جاری

واضح رہے کہ سابق صدر آصف زرداری نے اپریل 2011 میں صدارتی ریفرنس سپریم کورٹ میں دائر کیا تھا، جس کے بعد ذوالفقار بھٹو سے متعلق صدارتی ریفرنس پر اب تک سپریم کورٹ میں 6 سماعتیں ہوچکی ہیں، اس وقت سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے اپنی سربراہی میں 11 رکنی لارجر بینچ تشکیل دیا تھا جس نے 3 جنوری 2012 سے 12 نومبر 2012 تک کیس کی 6 سماعتیں کیں لیکن کوئی فیصلہ نہ دیا، صدارتی ریفرنس پر آخری سماعت 9 رکنی لارجر بینچ نے کی تھی، اب تقریباً 11 برس کے طویل عرصے بعد ریفرنس دوبارہ سماعت کے لیے مقرر کیا گیا تھا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں بینچ نے سماعت مکمل کی ہے جس پر فیصلہ کل سنایا جائے گا

 پیپلز پارٹی نے 108 صفحات پر مشتمل تحریری جواب سپریم کورٹ میں جمع کروا دیا

بھٹو صدارتی ریفرنس کی گزشتہ سماعت کا تحریری حکمنامہ جاری 

ہمارا بھٹو تو واپس نہیں آئے گا، ہمیں امید ہے غلط فیصلے کو غلط کہا جائے گا

سپریم کورٹ کے ہاتھ 40 برسوں سے شہید ذوالفقار علی بھٹو کے لہو سے رنگے ہوئے

خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

Leave a reply