گستاخانہ خاکے:وزیراعظم کےٹویٹ پراسرائیلی این جی او کی شرانگیزی ،وزیراعظم عالم کفرکوکھٹکنےلگے

اسلام آباد:گستاخانہ خاکے:وزیراعظم کےٹویٹ پراسرائیلی این جی او کی شرانگیزی ،وزیراعظم عالم کفرکوکھٹکنےلگے،اطلاعات کے مطابق اسلام مخالف ایجنڈے پر کھل کر بات کرنے والے وزیر اعظم پاکستان عمران خان اسرائیل نواز این جی او کو کھٹکنے لگے ہیں۔

ذرائع کے مطابق وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے فرانسیسی صدر کے بیان پر ردِ عمل میں کہا تھا کہ آزادی اظہار رائے کی آڑ میں توہین مذہب قبول نہیں۔

فرانس میں حضورﷺ کی شان میں گستاخی کے خلاف وزیر اعظم عمران خان کے ٹویٹ پر اسرائیل نواز این جی او ’یو این واچ‘ نے سوشل میڈیا پر نفرت انگیزی کا مظاہرہ کیا جس پر وزارت مذہبی امور نے برہمی کا اظہار کیا ہے۔

 

اپنے بیان میں وزیر مذہبی امور پیر نور الحق قادری نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ سے ملتےجلتے نام والے تنظیم (واچ UN) کا اظہار غم و غصہ اسرائیل کی ترجمانی ہے، اسلاموفوبیا اور توہین آمیز خاکوں پر وزیراعظم کا ردعمل اصولی ، مدلل اور امہ کی ترجمانی ہے، لگتا ہے اسلام دشمن اور امن عالم کے خلاف سازش کرنے والے عناصر کو وزیراعظم نے تکلیف پہنچائی ہے۔

واضح رہے کہ یو این واچ کا اقوام متحدہ سے کوئی تعلق نہیں، صرف ملتاجلتا نام رکھا گیا ہے، یو این واچ نامی این جی او کو اسرائیلی گروپس کی سرپرستی حاصل ہے۔

وزیر اعظم عمران خان نے اقوام متحدہ میں دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کی تھی، عمران خان سے پہلے کبھی کسی نے اسلام دشمنوں کو اتنا کھل کر جواب نہیں دیا تھا۔

یاد رہے کہ 25 اکتوبر کو وزیر اعظم عمران خان نے ٹوئٹ میں کہا تھا کہ فرانسیسی صدر کے بیان سے کروڑوں مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے، فرانسیسی صدر نے جان بوجھ کر اسلام پر حملہ کر کے اسلامو فوبیا کی حمایت کی، وہ انتہا پسندی مسترد کرنے کی بجائے تقسیم کو بڑھاوا دے رہے ہیں۔

 

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ جہالت پر مبنی بیانات انتہا پسندی کو مزید فروغ دیتے ہیں، دنیا مزید تقسیم کی متحمل نہیں ہو سکتی، لیڈر کی پہچان یہ ہے کہ وہ انسانوں کو متحد کرتا ہے، جیسے نیلسن منڈیلا نے تقسیم کی بجائے لوگوں کومتحد کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اسلام اور ہمارے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نشانہ بنانے والے گستاخانہ کارٹونز کی نمائش کی حوصلہ افزائی کے ذریعے فرانسیسی صدر میکرون نے واضح طور پر اس کے بارے میں کچھ سمجھے بغیر، یورپ اور پوری دنیا کے لاکھوں مسلمانوں کے جذبات پر حملہ کیا ہے۔

وزیر اعظم نے ٹویٹ میں لکھا کہ بدقسمتی کی بات ہے کہ صدر میکرون نے دہشت گردی کرنے والے دہشت گردوں (خواہ وہ مسلمان ہوں، سفید فام بالادست ہوں یا نازی نظریہ پسند) کی بجائے اسلام پر حملہ کر کے اسلامو فوبیا کی حوصلہ افزائی کا انتخاب کیا ہے، افسوس کی بات ہے صدر میکرون نے جان بوجھ کر مسلمانوں اور اپنے شہریوں کو مشتعل کرنے کا انتخاب کیا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.