fbpx

بولنے کی اجازت نہ ملنے پر اپوزیشن ارکان سراپااحتجاج

سندھ اسمبلی میں جمعہ کو اسپیکر آغا سراج درانی کی جانب سے ایم کیو ایم کے رکن محمد حسین کونکتہ اعتراض پر بولنے کی اجازت نہ دینے پر اپوزیشن ارکان سراپا احتجاج بن گئے اور ایوان ’’پانی دد‘‘کے نعروں سے گونج اٹھا۔ اپوزیشن ارکان پلے کارڈز کے کر اسپیکر ڈائس کے سامنے آگئے ،جس پر اسپیکر آغا سراج درانی نے اجلاس پہلے دس منٹ اور بعد ازاں 7جون تک کے لیے ملتوی کردیا۔
سندھ اسمبلی کی کارروائی کے دوران جمعہ کو وقفہ دعا کے بعدایم کیوایم پاکستان کے ارکان نشستوں سے کھڑے ہوگئے اور اسپیکر سے بولنے کی اجازت دینے کی درخواست کی ۔اسپیکر آغا سراج درانی نے محمد حسین کو بولنے کی اجازت نہیں دی،جس پر وہ مائیک بند ہونے کے باوجود خطاب کرتے رہے ۔
سپیکر آغا سراج درانی اپوزیشن ارکان کو انگریزی ،اردو اور سندھی زبان میں سمجھاتے رہے اور کہا کہ میں آپ کو وقفہ سوالات کے بعد وقت دوں گا تاہم ایم کیو ایم پاکستان اور پی ٹی آئی کے ارکان کراچی کو پانی دو کے نعرے لگاتے ہوئے اسپیکر کے ڈائس سامنے آگئے ۔

اپوزیشن لیڈر حلیم عادل شیخ نے کہا کہ پورے سندھ میں پانی کا ایشو ہے۔کراچی کے لوگ پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں۔کیا یہاں یزیدیوں کی حکومت ہے۔ پانی چوروں سے سندھ کو نجات دلائیں۔ایوان میں شوشرابہ بڑھنے پر اسپیکر نے اجلاس 10منٹ کے لیے ملتوی کردیا ۔ وقفے کے بعد اجلاس دوبارہ شروع ہوا تو ایم کیو ایم اور پی ٹی آئی کے ارکان نے ایک مرتبہ پھر احتجاج شروع کردیا ۔
اپوزیشن ارکان ایوان میں ’’ظالموں جواب دو پانی کا حساب دو‘‘ اور دیگر نعرے لگاتے رہے ۔اسپیکر سندھ اسمبلی نے کہا کہ اپوزیشن ارکان موبائل فون استعمال کررہے ہیں ۔میں ایوان میں موبائل فون پر پابندی عائد کردوں گا ۔اپوزیشن کے احتجاج کے باعث وقفہ سوالات چند منٹ میں ہی ختم ہوگیا جبکہ اسپیکر آغا سراج درانی نے کئی ارکان کے توجہ دلا ؤنوٹس بھی ختم کردیئے ۔بعد ازاں اسپیکر نے سندھ اسمبلی کا اجلاس 7جون تک ملتوی کردیا ۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.