سائفر کیس، اسد عمر کی ضمانت منظور

میں تو خود اپنے پیسوں سے 70روپے کی چائے کا کپ منگواتا ہوں۔جج ابوالحسنات
0
65
asad umar

سائفر کیس میں سابق وفاقی وزیر اسد عمر کی درخواست ضمانت قبل ازگرفتاری پر سماعت ہوئی،

آفیشل سیکرٹ ایکٹ خصوصی عدالت کے جج نے سماعت کی ،بابراعوان نے دلائل دیتے ہوئے کہاکہ میرے موکل کیخلاف ابتک کیا انویسٹی گیشن ہوئی؟جج نے پراسیکیوشن سے استفسار کیا جی بتایئے اب تک کیا تفتیش ہوئی؟

وکیل بابراعوان نے کہاکہ اسد عمر شامل تفتیش ہو چکے، اپنا جواب باقاعدہ جمع کرا چکے،اسد عمر براہ راست سائفر کیس کے مقدمے میں نامزد نہیں،عدالت نے کہاکہ یہ ایک ہی ایف آئی آر ہے تو سلمان صفدر کو بھی بلالیں،عدالت نے استفسار کیا کہ کیا یہ شامل تفتیش ہوئے؟

ایف آئی اے نے کہا کہ شامل تفتیش انہوں نے ہونا تھا تفتیشی افسر نے ان کے پیچھے نہیں جاناتھا،یہ شامل تفتیش ہوتے تو ان کا کردار طے ہوتا،یہ شامل تفتیش کرنے کا کہہ رہے ہیں مگر ہوئے نہیں،شامل تفتیش ہونگے تو معلوم ہوگا کہ یہ مجرم ہیں کہ نہیں؟بابراعوان نے کہاکہ یہ بلائیں گے تو ہم شامل تفتیش ہونگے،عدالت نے کہاکہ ایف آئی اے اسد عمر کو بلائے گی تو شامل تفتیش ہوں گے۔

اسد عمر نے روسٹرم پر آکر عدالت کو بتایا کہ دو بار ایف آئی اے نے بلایا، گزشتہ سال دسمبر اور حال ہی میں بلایا،ایک اور دو گھنٹوں پر محیط مجھ سے ایف آئی اے نے تفتیش کی،شامل تفتیش ہونے کے بعد ایف آئی اے نے کہاکہ اسد عمر کا کردار نہیں، سیاسی انتقام لیا جارہا ہے، جج ابوالحسنات نے کہاکہ اسد عمر کو کمرہ عدالت میں شامل تفتیش کرنا ہے تو کرلیں ، سماعت تو ملتوی نہیں ہونی، اسدعمر، چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود کی درخواستوں پر فیصلہ آج کرکے رہوں گا، جتنی مرضی درخواستیں دینی ہیں دے دیں، تمام درخواستوں پر فیصلے آج سناؤں گا،سپیشل پراسیکیوٹر ز کے معاون نے تینوں ضمانتوں پر دلائل اکٹھا سننے کی استدعا کردی۔

جج ابوالحسنات نے کہاکہ دو ضمانت اور ایک ضمانت قبل ازگرفتاری درخواستیں الگ الگ سنی جائیں گی،جج نے کہاکہ جائز بات کریں، عدالت کو بتائیں اسد عمر کا کردار براہ راست نہیں تو مقدمے میں نامزد کیوں کیا؟اسد عمر کی درخواست ضمانت کی مخالفت کیوں کی جارہی ہے؟ ٹھوس وجہ بتائیں،درخواست ضمانت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا، فیصلہ ہو گا تو آج ہو گا، جج ابوالحسنات نے سائفر کیس کی سماعت میں وقفہ کردیا۔

وقفے کے دوبارہ سماعت کے دوران جج ابوالحسنات نے کہاکہ سپیشل پراسیکیوٹرز کو بتادیں، نہیں پہنچے تو دلائل شروع ہو جائیں گے،سپیشل پراسیکیوٹر ز کو پیغام دے دیں پہنچنے کا، ایسے نہیں چلے گا کام۔وکیل علی اعجاز بٹر نے کہا کہ جوڈیشل کمپلیکس میں کوئی کینٹین نہیں، پانی بھی نہیں ملتا باہر سے خرید کر لانا پڑتا ہے،جج ابوالحسنات نے کہاکہ میں تو خود اپنے پیسوں سے 70روپے کی چائے کا کپ منگواتا ہوں۔

ایف آئی اے پراسیکیوٹر شاہ خاور ایڈووکیٹ نے عدالت میں کہا کہ اس وقت اسد عمر کی گرفتاری درکار نہیں ہے،ابھی تک ان کیخلاف شواہد نہیں،دوران تفتیش شواہد سامنے آئے تو دیکھیں گے،اسد عمر کو ایف آئی آر میں نامزد نہیں کیاگیا،عدالت میرابیان لکھ لے،بابراعوان ایڈووکیٹ نے کہاکہ شاہ خاور سے کہیں عدالتی کارروائی میں مداخلت نہ کریں،مستقبل میں اگر کوئی شواہد سامنے آئے تو اسد عمر کو آگاہ کریں گے،عدالت نے سائفر کیس میں اسدعمر کی درخواست ضمانت منظور کرلی۔

Leave a reply