راولپنڈی کے تھانہ صدر بیرونی کی حدود ڈھوک عبداللہ (تربیلا کالونی) میں ایک دربار میں بنائی گئی قبر جب کھودی گئی تو اس میں سے بلے کی ہڈیاں، کھوپڑی، چمڑی اور آیات مقدسہ برآمد ہوئی ہیں، واقعہ پر شہریوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے

میڈیا رپورٹس کے مطابق صحافی اسرار احمد راجپوت نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ایک ٹویٹ کی جس میں کہا کہ ‏دو ماہ قبل سپین سے ایک فیملی یہاں آئی جس نے آتے ہی ایک قبر بنائی اور علاقہ میں مشہور کیا کہ یہ انکا بہت ہی نیک ولی اللہ پارسا بچہ تھا جو سپین میں فوت ہوا تھا اور جس کی ڈیڈ باڈی بزریعہ ہوائی جہاز لائی گئی تھی۔ لیکن اس علاقہ کے علماء و دیگر رہائشیوں کو شک گزرا جس پر علاقہ میں شور مچا لیکن پولیس نے معاملہ رفع دفعہ کر دیا۔ لیکن اہلیان علاقہ چپ نہ بیٹھے۔ اس دوران کورٹ میں پولیس جانب سے قبر کشائی کی درخواست بھی دی گئی جوکہ جج نے خارج کر دی۔

بعد ازاں بچہ کی لاش سپین سے آئی کہ نہیں کا معمہ حل کرنے لیے ایف آئی اے کو بھی درخواست دی گئی۔ لیکن بھانڈہ بیچ چوراہے میں اس وقت پھوٹا جب قبر بنانے والے اور بلا دفنانے والوں میں رقم کے لین دین کا تنازعہ بنا جس پر قبر بنانے والے میں پول کھول دیا کہ قبر میں کوئی بچہ دفن نہ ہے بلکہ اس میں بلا، جائے نماز، قرآنی صفحات و بلا دفن ہے۔ بروز سوموار علماء و اہلیان علاقہ کی بڑی تعداد ڈھوک عبداللہ دربار پر آئے اور قبر کشائی کی جس سے بلے کی ہڈیاں، کھوپڑیا، قرآن کے ورق و جاہ نماز برآمد ہوئی، پولیس کی بھاری نفری موقع پر موجود ہے

ترجمان راولپنڈی پولیس کا کہنا ہے کہ اڈیالہ روڈ مسجد سے ملحقہ دربار کی قبر کشائی کا معاملہ، اہل علاقہ نے اپنے طور پر قبر کشائی کر کے قبر سے ہڈیاں وغیرہ نکالی ہیں، جنکے بارے میں اہل علاقہ کا تاثر ہے کہ یہ بلی کی ہڈیاں ہیں، واقعہ کی اطلاع پر سینئر افسران پولیس فورس کے ہمراہ موقع پر پہنچے،قبر کشائی کے نتیجہ میں نکالی جانے والی ہڈیوں کو فرانزک کے لئے بھجوایا جا رہا ہے،دربار کو سیل کر دیا گیا ہے، قبر بنوانے والی فیملی بیرون ملک مقیم ہے، معاملہ کی تحقیقات کی جا رہی ہیں، فرانزک رپورٹ کی روشنی میں قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی،

انسان کی لاش مل جائے انسان کو تسلی ہوجاتی ہے،جبری گمشدگی کیس میں عدالت کے ریمارکس

عمران خان لاپتہ، کیوں نہ نواز شریف کیخلاف مقدمے کا حکم دوں، عدالت کے ریمارکس

لاپتہ افراد کا سراغ نہ لگا تو تنخواہ بند کر دیں گے، عدالت کا اظہار برہمی

لاپتہ افراد کی عدم بازیابی، سندھ ہائیکورٹ نے اہم شخصیت کو طلب کر لیا

 لگتا ہے لاپتہ افراد کے معاملے پر پولیس والوں کو کوئی دلچسپی نہیں

Shares: