fbpx

برطانوی رکن پارلیمنٹ کی پاکستان کو "ریڈ لسٹ” میں ڈالنے کی مخالفت

برطانوی رکن پارلیمنٹ کی پاکستان کو "ریڈ لسٹ” میں ڈالنے کی مخالفت

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کورونا کے بڑھتے ہوئے کیسز کے باعث 9 اپریل سے برطانیہ میں پاکستانی شہریوں کے داخلے پر پابندی عائد کردی گئی ، برطانیہ نے پاکستان کو سفری پابندی والے ممالک کی ’ریڈ لسٹ‘ میں شامل کرلیا گیا ہے پاکستان میں موجود برطانوی شہری اور ریزیڈنسی ویزا کے حامل افراد ہی واپس برطانیہ جا سکیں گے، پاکستانیوں کو وزٹ ویزہ ایشو نہیں ہوگا۔

برطانوی رکن پارلیمنٹ ناز شاہ نے برطانیہ میں کورونا کے حوالے سے پاکستان کو ریڈ لسٹ میں شامل کرنے کی مخالفت کی تھی اس ضمن میں انھوں نے برطانوی فارن سیکرٹری کو 30 مارچ کو ایک خط لکھا تھا،جس میں کہا گیا کہ پاکستان کو ریڈ لسٹ میں شامل کرنے کا فیصلہ سیاسی ہے، بھارت سمیت کئی ممالک میں کورونا کی شرح پاکستان سے زیادہ ہے، خط میں کچھ ممالک کے اعداو شمار بھی دیئے گئے جس میں بتایا گیا کہ بنگلہ دیش، جرمنی،کینیا، فرانس، انڈیا میں کرونا کے کسیز پاکستان سے زیادہ ہیں، خط میں برطانوی رکن پارلیمنٹ نے یہ بھی کہا کہ ریڈ لسٹ کے حوالہ سے صحیح طریقہ کار پر کام نہیں کیا گیا یوں لگتا ہے کہ حکومت اس حوالہ سے سنجیدہ نہیں،برطانوی رکن پارلیمنٹ ناز شاہ  نے برطانوی حکومت سے سوال کہ پاکستان کو ریڈ لسٹ میں کس سائنٹفک بنیاد پر ڈالا گیا؟ جب کہ جرمنی، فرانس اور بھارت کی نسبت پاکستان میں کرونا کیسز کی شرح کم ہے، برطانوی حکومت اپنے عوام کے تحفظ کی بجائے سیاسی فیصلے کر رہی ہے جو اخلاقی اقدار کے خلاف ہیں

دوسری جانب پاکستان میں برطانیہ کے ہائی کمشنر کرسچئن ٹرنر کا کہنا تھا کہ اس اقدام کے بعد صرف برطانیہ کے شہری اور ریزیڈنسی ویزہ ہولڈرز ہی برطانیہ جا سکیں گے، پاکستانیوں کے لیے وزٹ ویزے پر پابندی ہوگی، برطانیہ پہنچ کر ان شہریوں کو بھی ہوٹل میں قرنطینہ کے دس دن گزارنے ہونگے اور ہوٹل کے اخراجات بھی شہریوں کے ذمے ہونگے۔ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست پروازیں جاری رہیں گی تاہم ان کے شیڈول میں تبدیلی کی جا سکتی ہے۔ریڈ لسٹ میں آنے سے پاکستان میں موجود 40 ہزار سے زائد دہری شہریت کے حامل پاکستانی اور کشمیری متاثر ہوں گے، 35 ممالک پہلے ہی ریڈ لسٹ میں شامل تھے اور اب پاکستان کے ساتھ فلپائن، بنگلہ دیش اور کینیا بھی ریڈ لسٹ میں شامل ہوگئے ہیں، پابندی کا اطلاق 9 اپریل سے ہوگا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.