fbpx

چائلڈ ابیوز کے حوالے سے ہمارے ملکی قوانین خاموش ہیں نادیہ جمیل

اداکارہ نادیہ جمیل جنہوں نے بہت بہادری کے ساتھ کینسر جیسے مرض‌کو شکست دی ہے. وہ حساس موضوعات پر نہ صرف آواز اٹھاتی ہیں بلکہ وہ بچوں کے حقوق کے لئے ایک مضبوط آواز ہیں. آج انہوں نے لاہور میں چائلڈ‌پروٹیکشن بیورو کے زیراہتمام ہونے والی واک میں شرکت کی . نادیہ جمیل نے اس موقع پر کہا کہ چائلڈ ابیوز صرف غریب خآندانوں میں‌نہیں‌ہوتا بلکہ ہر طبقے میں‌ایسا ہوتا ہے . اور چائلڈ ابیوز کا تعلق معاشی صورتحال سے بھی نہیں‌ہے بلکہ اسکا تعلق سوچ کے ساتھ ہے . ہر پاکستانی کو یہ سکھایا جانا چاہیے کہ بچوں کی عزت کرنی ہے ، جب اس چیز کا شعور پھیلے گا تو یقینا بچوں‌کی گھروں اور سکول ہر جگہ عزت کی جائیگی . ہمارے ہاں بچوں کے ساتھ کچھ نہ بھی کیا جائے تو کوئی ان کے گال کھینچ دیتا ہے کوئی گود میں‌بٹھا لیتا ہے یہ نہیں ہونا چاہیے. باہر کے ملکوں میں بھی چائلڈ ابیوز ہوتا ہے لیکن وہاں کے قوانین سخت ہیں ہمارے

ہاں‌اس ھوالے سے قوانین تو موجود ہیں لیکن ان پر عمل در آمد نہیں‌ہوتا یہ بالکل خاموش ہیں. جس کی وجہ سے مسائل زیادہ ہیں. سب سے زیادہ گھنائونی بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں بچہ بازی بہت زیادہ ہوتی ہے جس پر پورا ملک خاموش ہے . چھوٹے چھوٹے بچے جنسی تشدد کا شکار ہوے ہیں‌. نادیہ جمیل نے کہا کہ جن گھروں میں‌ پیسہ نہیں‌ہوتا ، وہاں‌مایوسی زیادہ ہوتی ہے اور جہاں مایوسی زیادہ ہوتی ہے وہاں ایسی چیزیں بھی زیادہ ہوتی ہے چند سو روپوں کی خاطر اپنے بچوں‌کو کسی کے بھی حوالے کر دیا جاتا ہے، بچوں‌کو زریعہ آمدنی سمجھا جاتا ہے .