چھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی تحریر: حمزہ احمد صدیقی

0
72


سگریٹ نوشی کا بڑھتا ہوا رجحان ہمارے انسانی معاشرے کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے کیونکہ سگریٹ نوشی کے کئی جسمانی اور ذہنی نقصانات سےواقف ہونے کے باوجود سگریٹ کا استعمال کثرت سے کرتے ہیں ، سگریٹ نوشی کے رحجان کوکم کرنے اور اس پر مکمل قابو پانے کے لیے  بہت  سی تحریرلکھی جاچکی ہیں اور
حکومت نے تمباکو نوشی کے خاتمے کیلئے کئی اقدامات کئے، اس کے نقصانات سے آگاہ کیا ، لیکن سگریٹ نوشوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی

سگریٹ باظاہر دیکھنے میں ایک چھوٹی سی شے ہے مگر جان لیوا امراض اور بےشمار نقصانات کا موجب ہیں۔سگریٹ میں ایک کیمیکل ہوتا ہے جسے نکوٹین کہتے ہیں جب ایک فرد سگریٹ کا دھواں اپنے اندر کھینچتے ہیں تو اپنے پھیپھڑوں کی تہیں اس دھوئیں سے نکوٹین لینا شروع کر دیتی ہیں، چند سیکنڈ کے اندر اندر یہ نکوٹین آپ کے دماغ پر حاوی ہوجاتا ہے، جس کے بعد ہمارا دماغ ڈوپامائن نامی کا ہارمون خارج کرتا ہے جس سے ہمیں بہت تسکين ملتی ہے اور ، ڈوپامین دماغ میں خارج ہونے والا ایک ایسا کیمیائی مرکب ہے جو خوشی ، تسکين اور راحت فراہم کرتا ہے

ڈوپاماٸن ڈوپاماٸن کیمیکل خوشی کے حسیات کو بیدار کردیتے ہیں جس سے جسم کو سگریٹ اور اس میں شامل ہونے والا نکوٹین مصنوعات کی طلب ہونا شروع ہوجاتی ہے۔ ان تمام عادات کو چھوڑنا کسی بھی فرد کے لئے بہت کٹھن ہوتا ہے کیونکہ انسانی جسم میں نکوٹین کی کمی سے متاثرین افراد کی طبیعت میں پریشانی، اضطراب، بے چینی، ڈپریشن کے ساتھ ذہنی توجہ کا فقدان رہنے لگتا ہے، نکوٹین کی اسی طاقت کا بھرپور فاٸدہ اٹھایا جاتا ہے سگریٹ بنانے والی كمپنياں اسی عادی کے بدولت نوجوان نسل کو سگریٹ کی لت لگوا دیتی ہے اور اس سے ہونے والے نقصان اور مرض کی حقیقت بھی چھپاتی ہیں

سگریٹ نوشی بہت آہستگی کے ساتھ انسانی جسم کے مختلف اعضاء کو نقصان پہنچانا شروع کرتی ہے اور متاثرہ افراد کو چند سالوں تک اپنے اندر ہونے والے نقصانات سے ناآشنا ہوتاہے اور جب یہ نقصانات رونما ہونا شروع ہوتے ہیں تب تک انسانی جسم سگریٹ کے جان لیوا نشے کا مکمل طور پر عادی بن جاتا ہے اور متاثرہ شخص کو سگریٹ سے جان چھڑانا بہت دشوار ہو جاتا ہے

عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا بھر میں سگریٹ نوشی کے باعث ہر چھ سیکنڈ کے بعد ایک فرد موت کی گہری نیند سورہا ہے، اس طرح دنیا بھر میں ہر سال ساٹھ لاکھ افراد سگریٹ نوشی کے باعث موت کا شکار ہوجاتے ہیں ۔سگریٹ نوشی سے متاثرہ انسان کی عمر آٹھ منٹ تک کم کر دیتی ہے کیونکہ سگریٹ اور اسکے دھوئیں میں تقریباً چار ہزار کیمیکل موجود ہوتے ہیں جن میں اڑھائی سو کے قریب جسمانی و ذہنی صحت کیلئے نہایت نقصان ہے اور پچاس سے زائد ایسے زہریلے کیمیکل موجود ہوتے ہیں جو مختلف سرطان کا باعث بن سکتے ہیں۔

سگریٹ نوشی سے متاثرہ افراد میں ہارٹ اٹیک کا خطرہ بہت حد تک بڑھ جاتا ہے۔ عام افراد کی نسبت سگریٹ نوش کو دل کی بیماری ہونے کا خطرہ دگنا ہوتا ہے۔ سگریٹ کا دھواں خون کی شریانوں کو سخت کرنے کا باعث بنتا ہے جس کیوجہ سے دل کے پٹھوں کو خون کی فراہمی رک جاتی ہے جو ہارٹ اٹیک کا موجب بنتاہے۔ سگریٹ نوشی سے متاثرہ افراد کا دماغ کو خون کی فراہمی بھی کم ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے ہیمرج سٹروک ہوجاتاہے جودماغ میں موجود خون کی شریانیں کا پھٹنے کا خطرہ لاحق ہوتا ہے

سگریٹ نوشی سے متاثرہ افراد کا سب سے زیادہ اور خطرناک و سنگین نقصان انکے پھیپھڑوں کو ہوتا ہے، کیونکہ پھیپھڑوں کی بیماریوں میں مبتلا افرا تقریباً نوے فیصد لوگ موجودہ یا سابقہ سگریٹ نوش ہوتے ہیں۔ ایک انسان جتنے زیادہ سگریٹ پیتے ہیں اتنا ہی پھیپھڑوں کا سرطان ہونے کا خطرہ رہتا ہے۔ سگریٹ نوشی کے متاثرہ افراد سانس کی بیماریوں ،ہارٹ اٹیک ،فالج، اسٹروک ہیمرج ، گلا، پھیپھڑے کا، خوراک کی نالی ، معدہ، دانتوں، جگر، گردے، مثانہ، لبلبہ اور گردے کے سرطان کا موجب بنتا ہے۔

ایک تحقیق کے مطابق دن بھر میں صرف ایک سگریٹ پینے والے افراد میں سگریٹ نہ پینے والوں کے مقابلے میں دل کی بیماریوں کا پچاس فیصد زیادہ امکان ہوتا ہے اور فیصد امکان فالج کا ہوتا ہے سگریٹ نوشی کی متاثرہ خواتین دل کی بیماریاں، بریسٹ کینسر ، جگر ، گردے معدہ، مثانہ لبلبہ کے سرطان کا زیادہ شکار ہوتی ہیں،تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ سگریٹ نوشی کرنے والی خواتین کو دل کا دورہ پڑنے کے امکانات مرد سے پچیس فیصد زیادہ ہوتے ہیں۔

اگر پاکستان کےمستقبل کو بچانا چاہتے ہیں تو سگریٹ نوشی پر روک تھام پر سختی سے عمل کیا جاٸے۔ والدین سے التماس گزارش ہے کہ اپنےبچوں کو سگریٹ نوشی جیسے لت سے دور رکھے اور متاثرہ افراد کو چھٹکارا حاصل کرنے میں انکی مدد کریں۔ متاثرہ انسان پر سختی کرنے اور مار پیٹ کے بجائے انہیں اس کے نقصان سے آگاہ کریں۔ چند لمحات کی تفریح اور مستی کی غرض سے پی جانے والی سگریٹ ہمارے بچوں کے آنے والے مستقبل کو تاریکی میں دھکیل سکتی ہے

‎@HamxaSiddiqi

Leave a reply