کورونا سے متاثر 43 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے۔ قومی ادارہ صحت

0
32

ملک بھر میں 24 گھنتوں کے دوران کورونا کے 7 ہزار 183 ٹیسٹ کئے گئے ،مثبت کیسز کی شرح 0.38 فیصد رہی ، این آئی ایچ

نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ (آئی این ایچ) نے کہا ہے کہ ملک بھر میں 24 گھنتوں کے دوران کورونا کے 7 ہزار 183 ٹیسٹ کئے گئے ہیں۔ آئی این ایچ کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں ملک بھر میں کورونا کے 7 ہزار 183 ٹیسٹ کئے گئے ہیں اور اس دوران کورونا کے مثبت کیسز کی شرح 0.38 فیصد رہی ہے۔


رپورٹ کے مطابق اس وقت ملک کے مختلف حصوں میں کورونا سے متاثر 43 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے۔ این آئی ایچ نے کہا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں ملک بھر میں کورونا وائرس سے متاثرہ 27 مریضوں کی شناخت ہوئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق پشاور میں کورونا مثبت کیسز کی شرح 1.74 فیصد، لاہور میں 1.42 فیصد جبکہ اسلام آباد میں یہ شرح 0.71 فیصد اور راولپنڈی میں کورونا مثبت کیسز کی شرح 0.10 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔

مزید یہ بھی پڑھیں؛
کارکنان کو آج کے جلسہ کیلئے پی ٹی آئی رہنماء منتے ترلے کرنے لگے
ہمارے ڈراموں کی کہانیاں گھٹیا ہیں جس میں رونا دھونا دکھایا جاتا ہے عفت عمر
دا لیجنڈ‌آف مولا جٹ کی کامیابی کا فائدہ دوسری پاکستانی فلموں کو بھی ہو گا

کووِڈ- 19 وائرس کیسے پھیلتا ہے؟

یہ وائرس متاثرہ شخص کی کھانسی یا چھینک سے خارج ہونے والے رطوبتوں کے چھوٹے قطروں اور ایسے چیزوں کی سطح کو چھونے سے پھیلتا ہے جو کورونا وائرس سے آلودہ ہوچکی ہوں۔ کورونا وائرس ان چیزوں کی سطح پر کئی گھنٹے تک زندہ رہ سکتا ہے لیکن اسے عام جراثیم کش محلول سے بھی ختم کیا جاسکتا ہے۔

کورونا وائرس کی علامات کون سی ہیں؟

 کورونا وائرس کی علامات میں بخار، کھانسی اور سانس لینے میں مشکل پیش آنا شامل ہیں۔ بیماری کی شدت کی صورت میں نمونیہ اور سانس لینے میں بہت زیادہ مشکل کا سامنا بھی ہوسکتا ہے۔ یہ بیماری بہت کم صورتوں میں جان لیوا ثابت ہوتی ہے۔ اس بیماری کی عام علامات زکام (فلو) یا عام نزلے سے ملتی جلتی ہیں جو کہ کووِڈ- 19 کی نسبت بہت عام بیماریاں ہیں۔ اس لئے بیماری کی درست تشخیص کے لئے عام طور پر معائنے (ٹیسٹ) کی ضرورت پڑتی ہے تاکہ اس بات کی تصدیق ہوسکے کہ مریض واقعی کووِڈ- 19 میں مبتلا ہوچکا ہے۔ یہ بات ذہن نشین کر لینا ضروری ہے کہ نزلے زکام اور کووِڈ- 19 کی حفاظتی تدابیر ایک جیسی ہیں۔ مثال کے طور پر بار بار ہاتھ دھونا اور سانس لینے کے نظام کی صحت کا خیال رکھنا (کھانسی کرتے اور چھینکتے وقت اپنا منہ کہنی موڑ کر یا پھر ٹشو یا رومال سے ڈھانپ لینا اور استعمال شدہ رومال یا ٹشو کو ایسے کوڑا دان میں ضائع کرنا جو ڈھکن سے بند ہوسکتا ہو)۔ نزلہ زکام کی ویکسین دستیاب ہے ، اس لئے ضروری ہے کہ آپ خود کو اور اپنے بچوں کو ویکسین کی مدد سے محفوظ رکھیں۔

Leave a reply