ہمیں اپنی حدود کا علم ہے،عدلیہ کیخلاف مہم شروع ہو چکی، سچ کو بول بالا ہو گا، چیف جسٹس
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق فل کورٹ ریفرنس سے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا پر تاثر دیا گیا کہ میں نے پرویز مشرف کیس فیصلے کی حمایت کی،یہ مجھے اور عدلیہ کو بدنام کرنے کی سازش ہے ،سچ سامنے آئے گا اور سچ کا بول بالا ہوگا،میرے اور عدلیہ کے خلاف گھناؤنی مہم شروع ہو چکی ہے،فیصلے کے بعد نہ صرف میرے خلاف بلکہ عدلیہ کے خلاف تضحیک آمیز مہم چلائی گئی،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بھی میڈیا سے ملاقات میں مشرف کیس میں رائے پر بات کی،ایڈیشنل اٹارنی جنرل کی کیس پر اثر انداز ہونے سے متعلق بات بے بنیاد اور تضحیک آمیز ہے،سچ ہمیشہ زندہ رہتا ہے
چیف جسٹس نے مزید کہا کہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے تقریر میں مجھ پر الزام لگایاکہ فیصلے پر اثر انداز ہوا، ہمیں اپنی حدود کا علم ہے،سچ کا بول بالاہوگا،
وائس چیئرمین پاکستان بار امجد شاہ نے کہا مشرف کیخلاف فیصلہ آئین کی بالادستی اور قانون کی عملداری کا غماز ہے، سپریم کورٹ اس فیصلے کا قانونی جائزہ لینے کا اختیار رکھتی ہے، چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے تاریخ میں اپنا نام لکھوایا۔
چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ آج رات 12 بجے ریٹائر ہو جائیں گے۔ سبکدوش ہونے والے چیف جسٹس کے اعزاز میں عشائیہ بھی دیا جائے گا، جسٹس گلزار احمد کل نئے چیف جسٹس آف پاکستان کا حلف اٹھائیں گے۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے 18 جنوری کو چیف جسٹس آف پاکستان کا عہدہ سنبھالا تھا۔
چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے اپنے دور میں کوئی ازخود نوٹس نہیں لیا۔ انہوں نے بطور چیف جسٹس آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق کیس کی سماعت کی جبکہ سابق وزیراعظم نواز شریف کی مشروط ضمانت سے متعلق بھی فیصلہ دیا۔ چیف جسٹس آصف کھوسہ نے پاناما سکینڈل سمیت اہم مقدمات کی سماعت کی۔
پرویز مشرف کو سزا، فاروق ستار کا جج کو چیلنج ،کیا مظاہرے کا اعلان،کس کس کو دعوت دے دی؟
خصوصی عدالت کا فیصلہ، پرویز مشرف نے چپ کا روزہ توڑ دیا، بڑا اعلان کرتے ہوئے کیا کہا؟
پرویزمشرف بارے عدالتی فیصلہ جلد بازی کا مظاہرہ، ایسا کس نے کہا؟
وقت کا تقاضا ہے ملک پر رحم کریں، فواد چودھری نے ایسا کیوں کہا؟
پرویزمشرف فیصلہ، پیپلز پارٹی کے قمر زمان کائرہ نے ردعمل دے دیا
پرویزمشرف فیصلہ، سراج الحق بھی میدان میں آ گئے، بڑا مطالبہ کر دیا
ڈپٹی اٹارنی جنرل نے فل کوٹ ریفرنس میں کہا کہ چیف جسٹس نےبطورجج55ہزارمقدمات کافیصلہ کیا،چیف جسٹس نے 10 ہزار سے زائد فوجداری مقدمات کے فیصلے کیے ،چیف جسٹس نےجھوٹی ضمانت،جھوٹی گواہی سےمتعلق اہم فیصلے کیے،
ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ خصوصی عدالت کےفیصلےمیں چیف جسٹس کےوضع کردہ قانونی اصولوں کومدنظرنہیں رکھا گیا،خصوصی عدالت کےجسٹس وقاراحمدسیٹھ کا فیصلہ تعصب اوربدلے کا اظہارکرتاہے،سزاپرعملدرآمد کاطریقہ غیر قانونی ،غیرانسانی،وحشیانہ اوربنیادی انسانی حقوق کےخلاف ہے،فیصلہ کرمنل جسٹس سسٹم کی روایات سے بھی متصادم ہے، بوجھل دل سے کہتاہوں چیف جسٹس نے صحافیوں سے گفتگو میں فیصلے کی حمایت کی،چیف جسٹس نے ایسے وقت میں فیصلے کی حمایت کی جب تفصیلی فیصلہ آنا باقی تھا،