بھارت: گائے کے لئے پہلی ایمبولینس سروس شروع

0
64

بھارتی ریاست اُتر پردیش کے وزیر لکشمی نارائن چوہدری نے بیمار گائے کے لیے پہلی ایمبولینس سروس شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق 112 ایمرجنسی سروس نمبر کی طرح نئی سروس بیمار گائے کے فوری علاج کی راہ ہموار کرے گی لکشمی نارائن چوہدری کا کہنا ہے کہ اتر پردیش کی حکومت 515 ایمبولینسں نئی اسکیم کے لیے تیار ہیں۔

بھارتی وزیر نے بتایا کہ ایک ڈاکٹر اور دو معاونین کے ساتھ یہ ایمبولینس سروس 15 سے 20 منٹ کے اندر بیمار گائے کے پاس پہنچ جائے گی اسکیم کے تحت شکایات وصول کرنے کے لیے لکھنؤ میں ایک کال سینٹر قائم کیا جائے گا جو دسمبر تک شروع ہو جائے گا۔

واضح رہے کہ اس سے قبل وزیراعظم مودی کی ہندو قوم پرست حکومت نے ’مقدس گائے‘ کی حفاظت اور فروغ کی خاطر آئندہ ماہ ملک گیر سطح پر اس موضوع پر رواں سال امتحان منعقد کیا گیا تھا-

حکومتی ادارے ‘راشٹریہ کام دھینو آیوگ‘ (قومی گائے کمیشن) کے زیر انتظام قومی سطح کا یہ آن لائن امتحان 25 فروری کو منعقد ہوا تھا جس میں بچوں سے لے کر بالغوں تک حتی کہ غیر ملکی بھی حصہ لے سکتے تھے۔ امتحان میں ہندی اور انگریزی سمیت بارہ علاقائی زبانوں میں 100 ملٹپل چوائس سوالات (ایم سی کیو) پوچھے گئے اور کامیاب افراد کو سند اور انعامات دیے گئے تھے-

راشٹریہ کام دھینوآیوگ (آر کے اے) کے چیئرمین اور حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی کے رکن پارلیمان ولبھ بھائی کتھیریا کا کہنا تھا کہ اس امتحان کا مقصد عوام میں گائے کی اہمیت کے حوالے سے ‘تجسس پیدا کرنا‘ اور اس مقدس جانور کے تئیں ‘احساس‘ جگانا ہے۔

ولبھ بھائی کتھیریا کا کہنا تھا کہ ‘گائے سائنس‘ کے بارے میں لوگوں کو جاننے کی ضرور ت ہے، ”گائے اپنے آپ میں ایک مکمل سائنس ہے۔ اگر ہم بھارت کی پانچ کھرب ڈالر کی معیشت کی بات کرتے ہیں تو اس میں انیس کروڑ سے زائد گائے اور بچھڑوں کی بھی اہمیت ہے یہ معیشت کی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اگر گائے دودھ نہیں دیتی ہے تب بھی اس کا پیشاب اور گوبر قیمتی ہے اگر ہم ان کا استعمال کریں تو اس سے نہ صرف گائے کو بچایا جاسکتا ہے بلکہ ہماری پوری معیشت بھی اپنے راستے پر آسکتی ہے۔”

قومی گائے کمیشن کے چیئرمین کتھیریا نے اس امتحان کے لیے ایک نصاب اور 54 صفحات پر مشتمل ‘تحقیقی‘ مواد بھی جاری کیاتھا اس میں بعض بڑی دلچسپ معلومات فراہم کی گئی تھیں مثلاً یہ کہ گائے کے دودھ میں سونے کے ذرات پائے جاتے ہیں اور اس جانور کے ذبح کرنے کی وجہ سے زلزلے آتے ہیں۔ آر کے اے کی طرف سے فراہم کردہ اسٹڈی میٹریل میں بتایا گیا تھا کہ کئی برسو ں تک روزانہ گائے ذبح کرنے سے مرتے ہوئے جانور کی کراہ سے پیدا ہونے والی لہروں کا اثر چٹانوں پر پڑتا ہے۔

اسی طرح گائے کے گوبر سے زہریلی گیسوں کے بے اثر ہو جانے کا دعوی کرتے ہوئے بتایا گیا تھا،”سن 1984 میں بھوپال گیس سانحے کے دوران بیس ہزار سے زائد لوگوں کی موت ہوگئی لیکن جو لوگ گائے کے گوبر سے لپائی کئے ہوئے گھروں میں تھے ان پر اس زہریلی گیس کا کوئی اثر نہیں ہوا۔”

آر کے اے کی طرف سے فراہم کردہ معلومات کے مطابق دیسی گائے، غیر ملکی (جرسی) گائے سے یکسر مختلف ہوتی ہے،” دیسی گائے بہت طاقت ور اور عقلمند ہوتی ہے وہ گندے جگہوں پر نہیں بیٹھتی جبکہ جرسی گائے کاہل ہوتی ہے اور اس کے بیمار ہونے کا خطرہ رہتا ہے۔ جب بھی کوئی شخص دیسی گائے کے قریب آتا ہے تو فورا ً کھڑی ہوجاتی ہے لیکن دوسری گایوں میں یہ جذبہ نہیں نظر آتا ہے۔”

ولبھ بھائی کتھیریا پیشے سے ڈاکٹر ہیں۔ وہ ماضی میں بھی گائے سے ہونے والے فوائد بتاتے رہے ہیں۔ گزشتہ برس انہوں نے گائے کے گوبر سے تیار کردہ چِپ لانچ کرتے ہوئے دعوی کیا تھا کہ اس سے موبائل فون کی تابکاری کافی حد تک کم ہوجاتی ہے اور اس سے بہت سی بیماریوں سے بچا جا سکتا ہے۔

انہوں نے یہ بھی دعوی کیا تھا،”پنچ گؤ (گائے سے ملنے والی پانچ چیزیں۔ دودھ، دہی، گھی، گوبر، پیشاب) پر مبنی آیورویدک علاج سے کوویڈ انیس کے اب تک آٹھ سو سے زائد مریض شفایاب ہوچکے ہیں۔ ان مریضوں کو پانچ سے چودہ دنوں کے علاج سے ہی شفا مل گئی اور کسی طرح کی پیچیدگی بھی پیدا نہیں ہوئی۔

ڈاکٹر کتھیریا کے اس بیان کی بھارتی سائنسی برادری نے سخت نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس طرح کے دعوؤں سے بھارت کی سائنسی کمیونٹی کا دنیا بھر میں مذاق بنتا ہے۔

انڈین انسٹی ٹیوٹ آف سائنس، ٹیکنالوجی اینڈ ڈیولپمنٹ اسٹڈیز میں سائنس داں گوہر رضا کا ڈی ڈبلیو سے بات چیت کرتے ہوئے کہنا تھا، ”ایسے دعوؤں سے دنیا نہ صرف ہم پر ہنستی ہے بلکہ ہماری سائنٹفک کمیونٹی بھی بدنام ہوتی ہے۔ کم از کم ملک کے رہنماؤں، وزیروں یا حکومتی ادارے کے سربراہوں کو تو اس طرح کی باتیں نہیں کرنی چاہییں۔”

بھارت میں ہندوؤں کی اکثریت گائے کو انتہائی مقدس سمجھتی اور ماں کا درجہ دیتی ہے۔= سن 2014 میں اقتدار میں آنے کے بعد سے ہندو قوم پرست جماعت بھارتی جنتا پارٹی کی حکومت گائے کے گوبر اور پیشاب کی تحقیق اور ان سے مصنوعات کی تیاری پر کروڑوں روپے خرچ کر چکی ہے دوسری طرف گائے کی حفاظت کے نام پر اقلیتوں اور بالخصوص مسلمانوں پر حملے ہوتے رہے ہیں، جس میں اب تک درجنوں افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

Leave a reply