مسلم لیگ کے رہنما احسن اقبال اور دانیال عزیز آمنے سامنے

0
118

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما احسن اقبال نے دانیال عزیز کی تنقید پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ دانیال عزیز خود اپنا مذاق اڑوا رہے ہیں، وہ خود ذمے دار ہیں۔
نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ دانیال عزیز کا کوئی ذاتی ایجنڈا ہوگا، مہنگائی کا وزارت منصوبہ بندی سے کوئی تعلق نہیں تھا، مہنگائی کا دار و مدار ایکسچینج ریٹ پر ہوتا ہے، ہم نے اصولی موقف لیا ہے شاید اس لیے دانیال عزیز ناراض ہیں۔ احسن اقبال نے کہا کہ نارووال مسلم لیگ ن کا گڑھ ہے، جن لوگوں کو دانیال عزیز نارووال کا ٹکٹ دلوانا چاہتے ہیں وہ وفاداریاں تبدیل کرچکے ہے ، پارٹی پالیسی کے مطابق کسی ایسے شخص کو ٹکٹ نہیں دیا جائے گا ، ہم کسی لوٹے کو پارٹی کا ٹکٹ دے کر دھبہ نہیں لگوانا چاہتے۔احسن اقبال نے کہا کہ 2018 میں اپرنٹسشپ کا تجربہ کرچکے، مزید نہیں کر سکتے، پاکستان نئے تجربوں کا متحمل نہیں ہوسکتا، ہمیں اسٹریٹجی، اصلاحات کی ضرورت ہے، ہمیں اعتماد کے ساتھ آگے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہائبرڈ نظام تو ناکام ہوچکا، ملک کا معاشی چیلنج بہت بڑا ہے، ہمیں یکسوئی کے ساتھ پیداواری صلاحیت اور ایکسپورٹس کو دگنا کرنے کی ضرورت ہے۔
واضح رہے کہ دانیال عزیز اور احسن اقبال کے درمیان شدید اختلافات نے جنم لی ہے اور اپنے بیان میں دانیال عزیز نے کہا کہ احسن اقبال بلدیاتی حکومتوں کے بارے میں خود کو عقل کُل سمجھتے ہیں، انہیں مقامی حکومتوں سے متعلق تقریر جھاڑنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔ رہنما مسلم لیگ ن نے کہا کہ احسن اقبال پرائس مانیٹرنگ کمیٹی کے چیئرمین تھے ریکارڈ توڑ مہنگائی پر قابو کیوں نہ پا سکے؟ اس نااہلی کی وجہ سے ہماری حکومت عوامی سطح پر مکمل ناکام ہوگئی تھی، ہماری پارٹی مسلم لیگ ن مہنگائی کو کم رکھنے کا بہت اچھا ریکارڈ رکھتی تھی۔ دانیال عزیز نے مزید کہا کہ مہنگائی کی وجہ سے ہماری پارٹی کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا، غریب عوام کو کمر توڑ مہنگائی کا سامنا کرنا پڑا جو احسن اقبال کی مکمل نا اہلی اور ناکامی تھی۔انہوں نے کہا کہ پارٹی نے مہنگائی کا نوٹس لیا ہوتا تو ناکامی پر یقیناً احسن اقبال کو برطرف کر دیا جاتا، الیکشن سر پر ہیں پارٹی مہنگائی کا نوٹس نہ بھی لے تو عوام ہر حال میں لیں گے۔ رہنما مسلم لیگ ن نے یہ بھی کہا کہ اب وہ ووٹ کو جاری مہنگائی سے جوڑ رہے ہیں جس کے ذمہ دار احسن اقبال ہیں۔

Leave a reply