fbpx

داؤد ابراہیم کو کراچی میں قتل کرنے کی بھارتی حساس اداروں کی سازش کب ہوئی تھی ناکام؟

داؤد ابراہیم کو کراچی میں قتل کرنے کی بھارتی حساس اداروں کی سازش کب ہوئی تھی ناکام؟

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بھارتی گینگیسٹر نے ممبئی پولیس کے سامنے انکشاف کیا کہ 1998 میں داؤد ابراہم کو قتل کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی تھی لیکن اس میں ناکامی ہوئی

بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتی گنگیسٹر اعجاز لکڑوالا جس کی عمر 50 برس ہے کو ممبئی کرائم پولیس نے ایک ماہ قبل خفیہ کاروائی کرتے ہوئے گرفتار کیا تھا، اعجاز لکڑ والا پر قتل، اقدام قتل سمیت متعدد مقدمات درج ہیں ،اعجاز لکڑ والا دو دہائیوں تک روپوش رہا ،پولیس نے اسے کافی بار گرفتار کرنے کی منصوبہ بندی کی لیکن بھارتی پولیس کو ناکامی ہوئی،بیس برس بعد ممبئی پولیس نے اسے گرفتار کیا

اعجاز لکڑوالا نے دوران تفتیش پولیس کو بتایا کہ چھوٹا راجن کی جانب سے داؤد ابراہیم پر ناکام قاتلانہ حملے کے بعد چھوٹا شکیل کے ساتھیوں نے راجن پر حملہ کیا تھا۔ چھوٹا راجن نے 1998 ء میں بھارتی حساس اداروں کی مدد سے داؤد ابراہیم کو قتل کردینے کا منصوبہ بنایا تھا۔ اِس مقصد کے لئے ایک ٹیم تشکیل دی گئی تھی جس میں وکی ملہوترہ ، فرید تاناشاہ ، بالو ڈوکر لکڑوالا، ونود مٹکر ، سنجے گھاٹ اور بابا ریڈی شامل تھے۔ تاہم اس ٹیم کو ناکامی ہوئی تھی.

اعجاز لکڑ والا کے مطابق داؤد ابراہیم اسوقت کراچی میں تھا اور بیٹی کے وفات کے بعد وہ ایک درگارہ پر جایا کرتا تھا جہاں قتل کی منصوبہ بندی کی گئی تھی لیکن داؤد ابراہیم کو اس کی اطلاع مل گئی تھی جس کی وجہ سے اس منصوبہ میں ناکامی ہوئی.

واضح رہے کہ بھارت گزشتہ کئی سالوں سے داؤد ابراھیم کا سراغ لگانے میں مصروف ہے لیکن ممبئی میں اُسکا اثر رسوخ آج تک ختم نہیں کر سکا۔ اب برطانیہ سے مدد مانگی جا رہی ہے داؤد ابراھیم کے ایک قریبی جابر صدیق (موتی والا) پر گھیرا تنگ کرنے کے لئے، بھارت یہی سمجھتا ہے کہ داؤد پاکستان میں ہے۔

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!