fbpx

توانائی کی بچت کیلئے سرکاری عمارتوں کو سولر انرجی پر منتقل کرنے کا فیصلہ

اسلام آباد:حکومت نے توانائی کی بچت کے لئے سرکاری عمارتوں کو سولر انرجی پر منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔شاہد خاقان عباسی کی سربراہی میں حکومت کی انرجی ٹاسک فورس کا اجلاس ہوا جس میں وزیر توانائی خرم دستگیر اور وزیر مملکت برائے پانی و توانائی مصدق ملک اور وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب سمیت دیگر ارکان نے شرکت کی۔

اجلاس کے دوران ایندھن کی بچت کے لئے سرکاری عمارتوں کو سولر انرجی پر منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ، متعلقہ اداروں کو سرکاری عمارتوں کی شمسی توانائی پر منتقلی کیلئے فزیبلٹی رپورٹ بنانے کی ہدایت کی گئی۔

اجلاس کے دوران ٹاسک فورس نے سولر انرجی کی پیداوار بڑھانے کے لئے مختلف اقدامات کا جائزہ لیا، اس سلسلے میں چھوٹے صارفین کو سولر انرجی پر منتقلی کیلئے سبسڈی اور رعایتی قرضے دینے پر غور کیا گیا۔اجلاس کے بعد مریم اورنگزیب نے میڈیا کو بتایا کہ گزشتہ برس سولر سے بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت 600 میگاواٹ رہی، جلد 4 سے 5 ہزار میگاواٹ کے منصوبوں پر کام شروع ہوگا۔

مریم اورنگزیب نے کہا کہ عمارتوں کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کے لئے سولر پینلز کو فروغ دینے کی ضرورت ہے، سولر پینلز کے استعمال سے اضافی بجلی گرڈ اسٹیشنز کو فروخت بھی کی جا سکے گی، جہاں بجلی پر سبسڈی دی جا رہی ہے، وہاں بھی سولر پلانٹس لگائے جائیں گے۔

وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ گھروں میں سولر پینلز سے عام بجلی کے استعمال میں بچت اور لائن لاسز بھی کم ہوں گے، سولر انرجی کے کاروبار پر مراعات دی جائیں گی، اجارہ داری قائم نہیں ہونے دیں گے، ٹاسک فورس سفارشات مرتب کر کے وزیراعظم شہباز شریف کو پیش کرے گی۔