دھاندلی اگر ہمارے حق میں بھی ہو , تو بھی سنگین جرم ہے،مولانا فضل الرحمن

0
101

قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی کے تیس اراکین نے بغاوت کی لیکن ہم نے ان کو وہاں بھی قبول نہیں کیا جمعیت علمائے اسلام نے ہمیشہ دنیا بھر کے مظلوموں کیلئے توانا آواز اٹھائی ہے . ہم نے امریکی مظالم کی دنیا کے ہر خطے میں مخالفت کی ہے
شریعت کا اولین تقاضا ہے کہ ہم اس کا عملی نمونہ بنیں .اسلام کے مقابلے میں چار طرح کے باطل فرقے یہود،نصاری، مشرکین ، منافقین وجود میں آئے۔
پشاور مفتی محمود مرکز/ جمعیت علماء اسلام پاکستان کے مرکزی جنرل کونسل کے اجلاس سے امیر مرکزیہ مولانا فضل الرحمان نے اپنے خطاب میں کہا ہے کہ جو خرابیاں یہود نصاری مشرکین اور منافقین میں تھیں وہی آج کے دور کا کلمہ گو مسلمان میں آئی ہیں ان عادتوں سے مسلمانوں کو نجات کیسے نجات دلانی ہے کہ کیسے ان کی جان چھوٹے گی ۔ یہود ونصاریٰ کے پیروی کرنا منافقین کی علامت تھی ۔انہوں نے کہا کہ یہ تو منافقین کی علامت تھی کہ اگر دنیاوی نفع ملتا تو راضی ہوتے ورنہ ناراض ہو جاتے ۔ دین کے معاملے میں جھگڑے فساد آڑے نہیں آتے دنیا کی طلب ہو تو ہماری حالات تبدیل ہوجاتے ہیں ۔ جمہوریت ایک ماحول کا نام ہے ، جس میں عوامی اعتماد حاصل کرنا ہوتا ہے جمہوریت میں زیادہ سے عوام کی شراکت ہوتی ہے اسلامی مملکت میں جبری امامت نہیں ہوتی ،


مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ حاکمیت اعلی اللہ تعالیٰ کی ہے قانون سازی قرآن وسنت کے مطابق ہوگی ،اور ہم نے اپنے معاشرے کی تربیت اسلامی خطوط پر کرنی ہوگی اللہ تعالیٰ نے اپنی استطاعت سے زیادہ کوشش کا مکلف نہیں بنایا ہمیں کوشش کا مکلف بنایا نتیجہ کے ذمہ دار بھی نہیں یہ اللہ کی مہربانی ہے گناہ کا مرتکب کافر نہیں ہوتا گناہ گار ہوجاتا ہے ، ملک میں دہشتگردی کی لہر کے حوالے سے کہا کہ ایک مسلمان کا خون کا دوسرے کیلئے حرام ہے ، کوئی کسی مسلمان کو قتل کرکے کس طرح وہ خود کو مسلمان رہ سکتا ہے ، پوری دنیا تباہ ہوجائے یہ اللہ پر اتنا بھاری نہیں جتنا ایک مسلمان کا ناحق قتل بھاری ہے
کعبے کا انہدام اتنا بھاری نہیں جتنا مسلمان کا ناحق قتل بھاری ہے۔ مرغی کی طرح انسان کو حلال سمجھ کر قتل کیا جاتا ہے انہوں نے کہا کہ اگر برصغیر میں انگریز آیا تو مسلمان نے اسلحہ اٹھاکر آزادی حاصل کی تھی ۔ بعض لوگ جذبات میں آکر اپنے نظریہ سے مایوس ہوکر ناحق قتل قتال پر اتر آتے ہیں ۔ ہم بدامنی کیخلاف صد آرا ہیں امن وامان کا مطالبہ کرتے رہیں گے ، نگران حکومت پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر موجودہ فیصلے ریاست کے ہیں تو اس میں پارلیمان کہاں ہے ہم خون کے دریاؤں سے گزرے ہیں لیکن جادہ حق سے ادھر ادھر ہونے کو تیار نہیں
انہوں نے کہا اداروں کیساتھ اختلاف آجاتاہے غلط کو غلط کہیں گے لیکن مستقل دشمنی نہیں ہم اپنے مینڈیٹ کا تحفظ چاہتے ہیں دھاندلی کسی صورت برداشت نہیں کریں گے
https://twitter.com/juipakofficial/status/1726278992410349650 >

فلسطین کا مسئلہ اٹھا تو اسرائیل کیخلاف پاکستان میں توانا آواز ہم بنےہم نے قطر جاکر فلسطینی مسلمانوں کی اپنے بساط کے مطابق دادرسی کی
جےیوآئی آنے والے جمعۃ المبارک کو فلسطینی مسلمانوں کیساتھ اظہار یکجہتی کرے گی ۔

Comments are closed.