توہین رسالت صلی اللہ علیہ وسلم و توہین مذہب کا مقدمہ،دفاعی شہادت پیش کرنے کے لئے مزید مہلت کی استدعا مسترد

0
42

توہین رسالت صلی اللہ علیہ وسلم و توہین مذہب کا مقدمہ،انسداد دہشتگردی عدالت اسلام آباد میں توہین رسالت صلی اللہ علیہ وسلم و توہین مذہب کے مقدمے کی سماعت ہوئی

انسداد دہشتگردی عدالت اسلام آباد کے جج راجہ جواد عباس حسن نے مقدمے کی سماعت کی،مدعی مقدمہ حافظ احتشام احمد ذاتی طور پر عدالت میں پیش ہوئے،مذکورہ مقدمے میں زیر حراست چاروں ملزمان کو بھی عدالت کے روبرو پیش کیا گیا،ملزمان نے عدالت کی جانب سے دفاعی شہادت پیش کرنے کے لئے دی گئی آخری مہلت کے باوجود آج دفاعی شہادت پیش نہیں کی

ملزمان کے وکیل نے موقف اپنایا کہ ہم نے ہائیکورٹ میں پی آئی اے سے ریکارڈ طلب کرنے کے لئے ایک درخواست دائر کر رکھی ہے،
ہائیکورٹ میں ہماری درخواست کی سماعت آٹھ اکتوبر تک ملتوی کی گئی ہے،عدالت ہماری درخواست پر ہائیکورٹ کے فیصلے کا انتظار کرے، عدالت ہمیں دفاعی شہادت پیش کرنے کے لئے 8 اکتوبر کے بعد تک کی مہلت دے،

مدعی مقدمہ کی جانب سے ملزمان کو دفاعی شہادت پیش کرنے کے لئے مزید موقع دینے کی مخالفت کی گئی،مدعی مقدمہ نے کہا کہ ہائیکورٹ نے ملزمان کے وکیل کی جانب سے ٹرائل کورٹ کو کارروائی سے روکنے کی استدعا مسترد کر دی ہے،ہائیکورٹ نے ٹرائل کورٹ کی کارروائی کے خلاف کوئی حکم امتناعی جاری نہیں کیا ٹرائل کورٹ ملزمان کو گزشتہ ایک سال سے دفاعی شہادت پیش کرنے کا موقع دے رہی ہے،ملزمان گزشتہ ایک سال سے دفاعی شہادت پیش کرنے کے بجائے مختلف طریقوں سے ٹرائل کو لٹکا رہے ہیں، عدالت ملزمان کو دفاعی شہادت پیش کرنے کے لئے مزید کوئی مہلت نہ دے،

عدالت نے فریقین کا موقف سننے کے بعد ملزمان کے وکیل کی جانب سے دفاعی شہادت پیش کرنے کے لئے مزید مہلت کی استدعا مسترد کر دی،انسداد دہشتگردی عدالت اسلام آباد نے ملزمان کے لئے دفاعی شہادت پیش کرنے کا حق ختم کر دیا،

عدالت نے فریقین کے وکلاء کو 6 اکتوبر کو حتمی دلائل دینے کا حکم دیا، عدالت نے حکم دیا کہ فریقین کے وکلاء چھ اکتوبر کو مقدمے کے متعلق حتمی دلائل دیں، ملزمان کو دفاعی شہادت پیش کرنے کے لئے کئی موقع دیئے گئے، ملزمان کو دفاعی شہادت پیش کرنے کے لئے گزشتہ سماعت پر عدالت نے آخری مہلت دی تھی،ملزمان نے عدالت کی جانب سے دفاعی شہادت پیش کرنے کے لئے دی گئی آخری مہلت کو نظر انداز کر دیا، دفاع میں کوئی دفاعی شہادت آج پیش نہیں کی، ملزمان کے لئے دفاعی شہادت پیش کرنے کا حق اب ختم کیا جاتا ہے،
مقدمے کے حتمی فیصلے کے لئے ہائیکورٹ نے 6 ہفتوں کی مہلت دی تھی، ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی 6 ہفتوں کی مہلت میں سے 3 ہفتے گزر چکے ہیں، مقدمے کو حتمی نتیجے تک پہنچانے کے لئے عدالت اب فریقین کے حتمی دلائل سنے گی، فریقین کے وکلاء 6 اکتوبر کو حتمی دلائل دیں، فریقین کے وکلاء اگر چاہیں تو تحریری دلائل بھی 6 اکتوبر کو عدالت میں جمع کروا سکتے ہیں، عدالت فریقین کے حتمی دلائل کے بعد ریکارڈ کو دیکھ کر مقدمے کا فیصلہ سنائی گی،

جج راجہ جواد عباس نے ملزم کے وکیل سے مکالمہ کیا کہ آپ نے دفاعی شہادت پیش کرنے کا آخری موقع ضائع کر دیا، اب عدالت حتمی دلائل پیش کرنے کا موقع دے رہی ہے، اگر آپ چاہیں تو 6 اکتوبر کو حتمی دلائل پیش کر دیں، اگر آپ نے عدالت کی مہلت کے باوجود حتمی دلائل بھی پیش نہ کئے تو عدالت ریکارڈ کا جائزہ لیکر مقدمے کا فیصلہ سنا دے گی، عدالت نے زیر حراست ملزمان کو دوبارہ جیل بھیجتے ہوئے مقدمے کی مزید سماعت 6 اکتوبر تک ملتوی کر دی،

توہین رسالت صلی اللہ علیہ وسلم و توہین مذہب کا مقدمہ، 16 اکتوبر سے قبل فیصلہ سنائیں گے، عدالت

Leave a reply