fbpx

روس اورجرمنی میں اختلافات شدت اختیارکرگئے: 40جرمن سفارت کاروں کوملک چھوڑنےکاحکم

روس نے جوابی اقدام کے طور پر جرمنی کے 40 سفارت کاروں کو ناپسندیدہ شخصیات قرار دیتے ہوئے ملک چھوڑنے کا حکم دیا ہے۔ یہ تعداد روس میں تعینات جرمن سفارت کاروں کی ایک تہائی بنتی ہے۔

اِس سے قبل روس یوکرین جنگ کے تناظر میں جرمنی نے روسی سفارت کاروں کو جرمنی سے نکل جانے کا کہا تھا جس پر روس کی وزارتِ خارجہ نے ملک میں متعین جرمن سفارت کار کو طلب کر کے جرمن حکومت کے اس فیصلے پر شدید احتجاج کیا تھا۔

اب روس نے اپنے ردعمل میں 40 جرمن سفارت کاروں کو ناپسندیدہ شخصیات قرار دے کر ملک چھوڑنے کا حکم دیا ہے تاہم جرمنی کی وزیر خارجہ انالینا بیئربوک نے الزام عائد کیا ہے کہ جرمنی سے بے دخل کیا گیا روس کا سفارتی عملہ سفارت کاروں کی بجائے جاسوسوں پر مشتمل تھا۔

جرمن وزیر خارجہ انالینا بیئربوک نے مزید کہا ہے کہ روس سے بے دخل کیے جانے والے سفارت ک‍اروں نے کوئی غلط کام نہیں کیا۔ انہوں نے روسی حکومت کے اِس اقدام کو نا انصافی پر مبنی فیصلہ قرار دیا ہے۔روس نے کہا ہے کہ دنیا سنگین جوہری جنگ کے خطرے کو سنجیدگی سے دیکھے، یہ قابل غور ہے۔

روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے سرکاری ٹی وی کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ نیٹو یوکرین کو ہتھیاروں کی سپلائی کرکے دراصل روس کے ساتھ بالواسطہ جنگ میں مصروف ہے۔ اِن ہتھیاروں سے یقینی طور پر روسی افواج کو نشانہ بنایا جائے گا۔

وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا کہ روس جوہری تصادم کے بڑھا چڑھا کر پیش کیے جانے والے مصنوعی خطرات کے امکانات کو کم کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہمارا اصولی مؤقف ہے جس پر تمام کارروائیاں ہورہی ہیں۔

وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کا کہنا تھا یوکرین کے ساتھ امن مذاکرات جاری رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس بات کا قوی امکان ہے کہ یہ جنگ روس اور یوکرین کے مابین ایک معاہدے پر دستخط ہونے کے ساتھ ہی ختم ہو جائے تاہم اس معاہدے کی شرائط اس وقت ملک میں فوجی صورتحال پر منحصر ہوں گی۔

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کے انٹرویو کے بعد یوکرین کے وزیر خارجہ دیمترو کولیبا نے ٹویٹ کیا کہ روس دنیا کو ڈرانے کا آخری موقع بھی کھو چکا ہے اور اس کا صرف ایک ہی مطلب ہے کہ اُسے اپنی شکست کا اندازہ ہو گیا ہے۔

یوکرین کے خلاف روس کی فوجی کارروائی کے تین ماہ گزر جانے کے باوجود اقوام متحدہ کی امدادی ایجنسیاں مشرقی یوکرین کے محصور علاقوں میں شہریوں تک پہنچنے کی جدوجہد کر رہی ہیں۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس آج سے روس کا تین روزہ دورہ شروع کر رہے ہیں جس کے بعد وہ یوکرین کا دورہ بھی کریں گے۔ یوکرین بحران سے نمٹنے میں اقوام متحدہ کے محدود کردار پر سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس بھی تنقید کی زد میں ہیں۔