سعودی عرب کے شاہی محلات میں اقتدار کی جنگ ،کوئی تخت توکوئی تختہ دارپرچڑھے گا، مبشرلقمان

0
32

لاہور:سعودی عرب کے شاہی محلات میں اقتدار کی جنگ ،کوئی تخت توکوئی تختہ دارپرچڑھے گا، محغمد بن سلمان کے اقدامات سے سعودی عرب کا پرانا شاہی نظام حکومت آمریت کی شکل اختیارکرگیا ، شہزادہ محمد بن سلمان کے اقدامات سے شاہی خاندان تقسیم تو ضرور ہوا مگرمحمد بن سلمان نے اپنے راستے سے رکاوٹیں ہٹانے میں کسی مصلحت سے کام نہیں ، ان خیالات کا اظہار پاکستان کے معروف اورسینیئر تجزیہ نگار،مشرق وسطیٰ پرخصوصی نظررکھنے والے صحافی مبشرلقمان نے مبشرلقمان یوٹیو ب چینل پرکیا

 

باغی ٹی وی کےمطابق سینیئرصحافی نے انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ محمد بن سلمان کے اقدامات سے یہ تو ضرور ہے کہ شاہی خاندان میں اب وہ اتفاق نہیں رہا ، مبشرلقمان نے بڑی اہم صورت حال پرتوجہ مرکوزکراتے ہوئے کہا کہ یمن میں فوج کشی سے لے کرجمال خشوگی کے قتل تک محمد سلمان کوکون نہیں جانتا ،اس شہزادے کے اقدامات نے اس دنیا بھر میں مشہورکردیا

مبشرلقمان نے بڑی اہم بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ بات تو طئے ہےکہ اب شاہی خاندان کا شاہ نظام ختم ہونےوالا ہے اورآمریت آنے والی ہے، محمد بن سلمان کی سوچ دوسرے شاہی خاندان کے افراد سے مختلف ہے، وہ بڑے پیمانے پر سماجی اوراقتصادی اصطلاحات کررہےہیں وہ ان اصطلاحات کی وجہ سے سعودی نظام کوبدل رہے ہیں،

شاہی خاندان کے روایات اورمراعات ختم کررہے ہیں، اس کے بعد شاہی خاندان کو سہولیات حاصل نہیں ہوںگی جوپہلے حاصل تھیں ،دوسرا اگرسعودی عرب کو آگے لے کرجانا ہے تو پھرشاہی خاندان میں ایسے فیصلوں کا ہونا ضروری ہے
لیکن یہ سعودی شہزادوں کو ہرگز قبول نہیں وہ مزاحمت کریں‌گے ،یہی وجہ ہےکہ جن پرشک ہےکہ وہ محمد بن سلمان کے ساتھ اختلاف کرتے ہیں ان کو ہٹایا جارہا ہے، محمد بن سلمان ایک بے رحم شہزادے ہیں ، ویسے بھی ان کا اثرورسوخ بہت زیادہ ہے ، اوریہ پہلے سے بڑھ گیا ہے ، جبکہ دوسرے شہزادے ویسے ہی بڑے کمزور ہیں،

محمد بن سلمان کو بین الاقوامی برادری سے بھی ایک قسم کی خفیہ حمایت ہے، امریکی صدر ٹرمپ کی طرف سے پروٹوکول کا بہت زیادہ ملنا اس بات کی علامت ہے ،فرانس اوربرطانیہ نے محمد بن سلمان کی پالیسیوں کی مخالفت نہیں کی روس اورچین ویسے ہی خاموش ہیں

محمد بن سلمان ایک ماڈرن آمر ہیں‌ مبشرلقمان نے ابہت اہم انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے 2017 میں سعودی عرب کے شہزادوں کو ایک ایسی جگہ پررکھا جہاں ان کو بتا دیا گیا کہ سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان ہی ہیں‌

دوسرا اہم انکشافات کرتے ہوئے کہا کہ 2017 تک سعودی عرب کی مغربی ممالک سے متعلق پالیسی سازمحمد بن نائف ہی طئے کرتے تھے اورساری دنیا ان پربھروسہ بھی کرتی تھی ،مبشرلقمان نے یہ بھی سعودی فرماں روا کی حکومت پرگرفت کے حوالے سے کہا کہ محمد بن سلمان کی بعیت ہی کافی نہیں بلکہ اطاعات بھی کرنا ہوگی ،محمد بن سلمان نے سعودی عرب پراپنی گرفت مضبوط کرلی ہے

شاہی محلات میں تیارہونے والی اس سازش پرسے پردہ اٹھاتے ہوئے مبشرلقمان نے انکشاف کیا کہ اس سارے کھیل میں اصل ہدف احمد بن عبدالعزیز تھے ، جن کے بارے میں کہا جارہا تھا کہ شاید سلمان بن عبدالعزیز احمد بن عبدالعزیز کو بادشاہ بنانا چاہتے تھے ،

لیکن یہ منصوبہ بھی قابل عمل ہوتا دکھائی نہیں دیتا ، محمد بن سلمان ہی سعودی عرب کے نئے ممکنہ بادشاہ لگتے ہیں، ،ویسے بھی محمد بن سلمان نے جس طرح سعودی عرب میں پالیسیاں نافذ کیں ، خواتین کے لیے جوآزادیاں دیں اس کی وجہ سے بہت سے عربی محمد بن سلمان کی پالیسیوں کو پسند بھی کرتے ہیں

مبشرلقمان نے محلات کے اندرہونے والی سازشوں کے بارے میں انکشاف کیا کہ محمد بن سلمان اب سعودی معیشت کا انحصار تیل کی بجائے دیگرذرائع پربھی کرنا چاہتے ہیں اوریہ وجہ ہے کہ محمد بن سلمان بڑے بڑے شہزادوں کو محلات سے نکال کربڑے بڑے عہدوں پربٹھانا چاہتے ہیں،

شہزادے اپنے آپ کو نظام حکومت میں اپنا کردار چاہتے ہیں جہاں انکی خواہش ہوگی وہاں وہ بطورسفیرجانا چاہتے ہیں، ان حالات میں محمد بن سلمان اورشاہی خاندان کے درمیان رسہ کشی کے بہت زیادہ امکانات ہیں یہ طاقت کی رہ کشی کیا رخ اختیار کرتی ہیں فی الحال اس کے بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا

یہ بھی ہوسکتا ہےکہ اس رسہ کشی میں کسی کے حصہ میں‌تخت اورکسی کے حصے میں تختہ آئے گیا دوسری طرف سعودی سرحدوں پردباوبڑھا دیا گیا ہے، یمن کے باغیوں کی طرف سے لڑائی میں شدت آگئی ہے اگلے چند دن سعودی اقتداراورشاہی خاندان کےلیے بہت اہم ہیں‌

Leave a reply