دیامر فائرنگ کا واقعہ دہشتگردی ہے ،صوبائی وازیر داخلہ شمس لون

0
113

صوبائی وزیر داخلہ شمس لون نے دیامر واقعہ افسوس ناک قرار دے کر کہا ہے کہ اس میں بھارت کا ہاتھ ہوسکتا ہے، اس دہشت گردی کے واقعے کو کسی اور زاویے سے نہ دیکھا جائے۔ گلگت میں ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے صوبائی وزیر داخلہ شمس لون کا کہنا تھا کہ دیامر واقعہ افسوسناک ہے اور یہ سراسر دہشت گردی ہے جس میں بھارت ملوث ہوسکتا ہے، وزیر داخلہ نے کہا کہ ہم بہت جلد اس واقعے میں ملوث کرداروں کو کیفرکردار تک پہنچائیں گے، وزیراعلیٰ نے خصوصی ہدایت جاری کی ہے کہ اس واقعے میں زخمی ہونے والے تمام افراد کا علاج چاہے گلگت میں ہو یا ملک کے کسی بھی شہر میں اس کا خرچہ حکومت گلگت برداشت کرے گی۔
گلگت بلتستان کے عوام خصوصاً جو لوگ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز استعمال کرتے ہیں ان سے التماس ہے وہ اسے مثبت طریقے سے استعمال کریں، اور تمام مکاتب فکر کے علمائے کرام سے بھی گزارش ہے کہ وہ منبر پر بیٹھ کر اس واقعے کی پرزور مذمت کریں۔ شمس لون کا کہنا تھا کہ گلگت اور پورے صوبے کی سیکیورٹی ہائی الرٹ کردی گئی ہے، ہر حکومت کی کوشش ہوتی ہے کہ دہشت گردی کو روکا جائے، تمام مسلمان اس طرح کے واقعات کی مذمت کرتے ہیں لیکن چند شرپسند عناصر اس طرح کی تخریب کاری میں ملوث ہوتے ہیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز 2 دسمبر کو دیامر کے ڈویژنل ہیڈ کوارٹر چلاس شہر کے تھانہ کے۔کے ایچ کی حدود شاہراہ قراقرم ہوڈر کے مقام پر ضلع غذر سے راولپنڈی جانے والی نجی ٹرانسپورٹ کمپنی کے۔ٹو کی بس نمبر ”BLN 4647“ پر نامعلوم افراد کی جانب سے اندھا دھند فائرنگ کردی، جس کے نتیجے میں 9 افراد جاں بحق اور 27 زخمی ہوگئے تھے۔ عینی شاہدین کے مطابق جب بس ہوڈور کے مقام پر پہنچی، تو اچانک شدید فائرنگ شروع ہو گئی، مجھے خیال آیا کہ شاید چھت سے پتھر گر رہے ہیں ایسے میں میں گاڑی میں لیٹ گیا۔ عینی شاہد نے بتایا کہ بس بے قابو ہو کر بائیں جانب سے آنے والے مال بردار ٹرک سے ٹکرا گئی، کافی دیر تک فائرنگ کا سلسلہ جاری رہا جس کے بعد منظر تبدیل ہو گیا تھا، سب مسافر خون میں لت پت تھے اور ٹرک کو آگ لگ چکی تھی۔ محمد حسین نے بتایا کہ واقعے کے تقریباً 45 منٹ بعد ایک سرکاری گاڑی جائے وقوعہ پر پہنچی اور ساتھ ریسکیو اہلکار بھی موجود تھے، جو ہمیں اسپتال لے آئے۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور ریسکیو 1122 نے جائے وقوعہ پر امدادی کارروائیاں کرتے ہوئے زخمیوں اور لاشوں کو قریبی آر ایچ کیو اسپتال منتقل کردیا، اور زخمیوں کی مدد کے لئے چلاس کے ہزاروں مقامی افراد بھی اسپتال پہنچ گئے اور انہوں نے خون کے عطیات دئیے اور زخمیوں کے علاج میں مدد کی۔

Leave a reply