fbpx

منافقت کا دوسرا نام ، تحریر: آصف گوہر

منافقت کا دوسرا نام Flexibility…..
سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مشہور واقعہ ہے کہ مشرکین مکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا قریش کے سردار ابو طالب کے پاس آئے اور کہنے لگے اپنے بھتیجے سے کہیں کہ اپنے موقف میں تھوڑی Flexibility پیدا کریں اور ہمارے بتوں کو برا بھلا نہ کہیں ہم انکو دولت سے نواز دیں گے جس خاتون سے کہیں گے اس سے ان کا نکاح کروا دیتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر تاریخی الفاظ کہے کہ” اللہ کی قسم ! وہ میرے داہنے ہاتھ پر سورج اور بائیں ہاتھ میں چاند لا کر رکھ دیں اور یہ چاہیں کہ میں اللہ کا حکم اس کی مخلوق کو نہ پہنچاؤں، میں ہر گز اس کے لئے آمادہ نہیں ہوں۔ یہاں تک کہ اللہ کا سچا دین لوگوں میں پھیل جائے یا کم از کم میں اس جدوجہد میں اپنی جاں دے دوں‘‘
اپنے مقصد پر ڈٹے رہنا اور سخت ترین حالات میں بھی استقامت اختیار کرنا بڑے لیڈر رہنما کے اوصاف میں سے ہے
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان جو بارہا اس بات کا اظہار کر چکے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے رول ماڈل ہیں اور دنیا کے سب سے بڑے لیڈر تھے ،
لازمی بات ہے کہ ایسے شخص کا موقف واضح ہوگا اور وہ اپنے مقصد کے حصول کے لیے ڈٹ جائے گا،
چند روز پہلے ایک موٹیویشنل اسپکیر نے عمران خان سے ملاقات کی جس کا سوشل اور ڈیجیٹل میڈیا پر بڑا چرچا ہوا اس نے اگلے ہی روز یہ وزیر اعظم شہباز شریف سے بھی ملے ان ملاقاتوں کا احوال جاننے کے لئے نیوز اینکر نے موصوف سے سوال کیا تو گویا ہوئے کہ فلاں میں Flexibility ہے اور فلاں rigged ہے قیامت کے روز ہونے والے فیصلے کئے بیٹھے ہیں،
اندازہ لگا لیں کہ جس شخص کو یہ بھی علم نہیں کہ
غلط کو غلط کہنا اور اپنے عظیم مقصد کے حصول کے لیے استقامت اختیار کرنا ہی حق ہے نہ کہ اپنے موقف میں وقتی فائدے کے لیے لچک پیدا کرلینا ،اب یہ کسی طرح کی motivations اپنے سننے والوں کو فراہم کرتے ہونگے اپ خود فیصلہ کر لیں۔
عظیم مقصد کے حصول کے لئے ڈٹ جانا ہی حق ہے اور وقتی فائدے کے لیے موقف میں Flexibility اختیار کرنا
دو رخی اور منافقت کے سوا کچھ بھی نہیں۔
کالم نگار ،آصف گوہر