کورونا وائرس :لاک ڈاون کی وجہ سے خواتین کس طرح جنسی تشدد کا شکارہورہی ہیں اوراب کس حالت میں ہیں،اہم رپورٹ آگئی

نیویارک: کورونا وائرس :لاک ڈاون کی وجہ سے خواتین کس طرح جنسی تشدد کا شکارہورہی ہیں اوراب کس حالت میں ہیں،اہم رپورٹ آگئی ،اطلاعات کے مطابق اقوام متحدہ (یو این) کے ذیلی ادارے یونائیٹڈ نیشنز پاپولیشن فینڈ (یو این پی ایف) نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں پھیلی کورونا کی وبا کے باعث گھریلو تشدد و ناچاقی کے معاملات میں بے تحاشہ اضافے کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔

عالمی ادارے کے مطابق لوگوں کی نقل و حرکت پر پابندی کے باعث جہاں خواتین پر گھریلو تشدد میں اضافہ ہوگا، وہیں دیگر کئی طرح کے تشدد اور ناانصافیوں میں بھی اضافے کے امکانات پیدا ہوگئے ہیں۔اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ لاک ڈاؤں کے دوران تشدد کے واقعات میں 20 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا اور لاک ڈاؤن کے دوران اپنے ساتھیوں سے تشدد کا نشانہ بننے والے افراد کی تعداد میں ڈیڑھ کروڑ تک کا اضافہ ہوسکتا ہے۔

اسی طرح اگر لاک ڈاؤں کو تین ماہ تک برقرار رکھا جاتا ہے تو تشدد کا نشانہ بننے والے افراد کی تعداد 3 کروڑ 10 لاکھ تک پہنچ جائے گی، اگر لاک ڈاؤن کو 6 ماہ تک بڑھایا جاتا ہے تو ایسے متاثرہ افراد کی تعداد 4 کروڑ 50 لاکھ جب کہ 9 ماہ تک لاک ڈاؤن کو بڑھائے جانے کی صورت میں یہ تعداد 6 کروڑ 10 لاکھ سے تجاوز کر جائے گی۔

اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے نے ایک اندرونی دستاویز میں کہا کہ مذکورہ تخمینے عالمی ہیں اور اس میں اقوام متحدہ کے تمام 193 رکن ممالک شامل ہیں۔اس دستاویز میں کہا گیا ہے کہ لاک ڈاؤن کے دوران ہر تین ماہ میں صنفی تشدد میں ڈیڑھ کروڑ کا اضافہ ہوگا، یعنی یہ اعداد معمول کے مطابق ہونے والے تشدد کے علاوہ ہیں اور انہیں رپورٹ بھی نہ کیے جانے کے امکانات ہیں۔یہ اعداد و شمار اوینیئر ہیلتھ، جان ہاپکنز یونیورسٹی (امریکا) اور وکٹوریہ یونیورسٹی (آسٹریلیا) کے تعاون سے تیار کیے گئے اور ان میں محتاط اندازے لگائے گئے ہیں۔

کورونا کی وبا کے دنیا میں کس طرح کے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں، فی الحال اس سے متعلق بہت بڑی معلومات دستیاب نہیں ہے لیکن محتاط اندازے سے لگائے گئے یہ اعداد و شمار خواتین اور لڑکیوں کے حوالے سے خوفناک مستقل کی پیش گوئی کر رہے ہیں اور اس ضمن میں اگر فوری اقدامات نہیں اٹھائے گئے تو بہت مسائل ہوں گے۔

ایک اندازے کے مطابق آج بھی 20 کروڑ خواتین ایسی ہیں جنہیں ان کے مخصوص اعضا میں تبدیلی ایف جی ایم (female genital mutilation) کا سامنا کرنا پڑا، یہ عمل لڑکیوں کے حقوق کی خلاف ورزی ہے اور جلد شادی کے لیے اکثر ان کے بچپن میں کیا جاتا ہے، جس کے باعث لڑکیوں کی تعلیم متاثر ہوتی ہے، ایسے پروگرامز جو ایف جی ایم کے عمل کی مخالفت کرتے ہیں وہ پوری دنیا کی برادریوں میں کامیاب بھی ثابت ہوئے۔

کووڈ 19 سے بچوں کی شادیوں کی روک تھام کے لیے کیے جانے والے اقدامات متاثر ہونے کا خدشہ ہے، خصوصاً اس وقت جب متعدد ممالک میں سماجی دوری پر عملدرآمد ہورہا ہے، اس مسئلے کے لیے تمام اقدامات ایک طرح متاثر نہیں ہووں گے، مگر اوسطاً ایک سال کا التوا ہوسکتا ہے۔

مارچ 2020 تک دنیا بھر کے ترقی پذیر یا غریب ممالک کی 45 کروڑ خواتین حمل کی روک تھام میں مدد دینے والے جدید طریقوں کو استعمال کررہی تھیں مگر کووڈ 19 کی وبا کے نتیجے میں خواتین کے لیے ان طریقہ کار پر عمل کرنا بھی مشکل ہوگا۔

ان عوامل کے نتیجے میں حمل کی روک تھام میں مدد دینے والی اشیا کی تیاری کا عمل بھی متاثر ہوسکتا ہے، طبی مراکز کی بندش، طبی عملے کی عدم دستیابی اور خواتین خود کووڈ 19 کے ڈر سے طبی مراکز میں جانے سے پچکچائین گی، جس سے بھی مانع حمل مصنوعات تک رسائی کم ہوگی۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.