fbpx

دوحہ میں جو معاہدہ طے ہوا وہ سب طالبان نے کر دکھایا ،دنیا اب ان کے ساتھ تعاون کرے علماءمشائخ کنونشن کا مطالبہ

وزیر اعظم کے معاون خصوصی پاکستان علماءکونسل کے چیئرمین حافظ طاہر محمود اشرفی کے زیر اہتمام علماءمشائخ کنونشن کا انعقاد کیا گیا جس میں پیر چراغ الدین شاہ، علامہ عارف حسین واحدی سمیت علماءو مشائخ شریک ہوئے –

باغی ٹی وی : علامہ طاہر محمود اشرفی نے اعلامیہ پڑھ کر سنایا جس میں کہا گیاکہ افغانستان کے حوالے سے ریاست پاکستان کے موقف کی تائید کرتا ہےعالمی برادری سے مطالبہ کرتے ہیں وہ افغانستان کو اس صورت میں تنہا نہ چھوڑیں ۔عافیہ صدیقی آج بھی امریکہ میں قید ہے، اس پر گزشتہ ہفتے حملہ ہوا ہے، اپنے بھی گریبان میں بھی جھانکیں،جب افغانستان میں جنگ ہی ختم ہوگئی ، جب کروڑوں کے سروں کی قیمتیں لگانے والوں سے معاہدہ کرلیا تو عافیہ کیوں قید ہے ؟ ہم مطالبہ کرتے ہیں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو فوری رہا کیا جائے-

انہوں نے کہا کہ عمران خان کے بھی دل کی آواز ہے، حکومت بھی اپنی کوششیں کررہی ہے،یہ کنونشن حکومت پاکستان، وزیراعظم پاکستان سے مطالبہ کرتا ہے کہ عافیہ صدیقی کی رہائی کا معاملہ اٹھایا جائے ،ہم یو این او، امریکہ، او آئی سی اور برطانیہ سے کہتے ہیں کہ مظلوم عورت کو رہا کیا جائے ،اب کوئی جواز نہیں ہے عافیہ صدیقی کو پابند سلاسل رکھا جائے ۔

انہوں نے کہاکہ دوحہ میں جو معاہدہ طے ہوا وہ سب افغان طالبان نے کرکے دکھایا ہے ،دنیا طالبان کے ساتھ اب تعاون کرے تاکہ اس خطے میں امن آئے افغانستان کا امن پاکستان کا امن ہے، پاکستان کا امن افغانستان کا امن ہے، افغانستان کی سرزمین پاکستان سمیت کسی کے خلاف استعمال نہیں ہوگی، طالبان کے اعلان کا خیرمقدم کرتے ہیں-

اعلامیے میں کہا گیا کہ 20 سال سے افغانستان میں بیٹھ کر ہندوستان پاکستان کے خلاف دہشت گردی کروا رہا تھا،پیغام پاکستان ضابطہ اخلاق پر محرم سمیت پورے سال عمل کرایا جائے ، اب ہندوستان پاکستان کے خلاف فرقہ وارانہ فسادات کی سازشیں کررہا ہے ،کابل پر ہونے والے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں ،پاکستان کے علما و مشائخ طالبان کی عام معافی اور انصاف پر مبنی حکومت کے قیام کے اعلان کا بھی خیرمقدم کرتے ہیں۔

علامہ طاہر اشرفی نے کہا کہ افعانستان کے حوالے سے ریاست پاکستان کا موقف درست سمت اور عوامی امنگوں کے مطابق ہے ،اس حوالے سے سپہ سالار پاکستان جنرل باجوہ کے کردار کو بھی خراج تحسین پیش کرتے ہیں ، حزب اختلاف اور حزب اقتدار کو قومی معاملے پر قومی مفاہمت کی دعوت دیتے ہیں، حرمین شریفین پر ہونے والے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے اس حوالے سے او آئی سی کو کردار ادا کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں ، او آئی سی کا فوری اجلاس بلاکر پر افغانستان کے معاملے پر متفقہ موقف اپنایا جائے ،جمعہ کو یوم وحدت کے طور پر منانے کا اعلان کرتے ہیں ۔

انہوں نے کہاکہ پورے ملک میں خواتین کے حوالے سے ہونے والے واقعات تشویشناک ہیں ،نور مقدم اور مینار پاکستان والے کیسز سمیت 10 کیسز کو ٹیسٹ کیس کے طور پر لیا جائے ، خواتین کے ساتھ زیادتی کی کیسز کے سپیڈی ٹرائل کرکے مجرموں کو سر عام سزائیں دی جائیں ،اسلام نے مرد و عورت دونوں کو حقوق اور انہیں تنبیہ بھی کی ہے ،فیک نیوز ایک بڑا مسئلہ ہے، اس کا تدارک ضروری ہے ۔

انہوں نے کہاکہ ہم آزادی اظہار کے قائل ہیں، تمام سٹیک ہولڈرز سے مشاورت سے قانون سازی کی جائے،یکم ستمبر تا 10 ستمبر تک عشرہ شہدائے ملت کے طور پر منائیں گے ، یکم جنوری 2022ء میں عالمی علماء کانفرنس کا انعقاد ہوگا جبکہ اکتوبر میں بڑے علما و مشائخ کنونشن کا انعقاد ہوگا۔

کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے مولانا حامد الحق حقانی نے کہاکہ افغانستان میں طالبان نے پرامن طریقے سے کنٹرول حاصل کرلیا ہے ،افغان طالبان دوچار روز میں حکومت سازی کرلیں گے ،روس کے بعد امریکہ کی شکست نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے افغانستان سپرپاورز کا قبرستان ہے ، آج پاکستان اور افغانستان میں امریکہ کے نکل جانے پر خوشی کا سماں ہے ،طالبان ایسی حکومت قائم کریں گے جس میں تمام مسالک اور قبائل شامل ہوں گے ،حکومت پاکستان افغانستان میں امن کے لئے کوشاں ہے ،افغان طالبان بدلے ہوئے طالبان ہیں ،افغانستان کی طرح کشمیر اور فلسطین بھی جلد آزاد ہوں گے۔