ایران کا پاکستان پر حملہ ، وجوہات

0
123
pak iran

ایران کا پاکستان پر حملہ ، وجوہات

پاکستا ن پر ایران کے حالیہ حملہ ، جو اس نے علیحدگی پسند گروپ جیش العدل پر کیا، نے بہت سے لوگوں کو اس طرح کے اقدام کے پیچھے محرکات پر سوالیہ نشان چھوڑ اہے۔ ایران کا یہ حملہ عسکریت پسند تنظیم پر سٹریٹجک حملے کے بجائے علامتی دکھائی دیتا ہے،

واقعات کا سلسلہ اس وقت سامنے آیا جب ایران نے پاکستان پر توجہ مرکوز کرنے سے پہلے عراق کے نیم خودمختار کرد علاقے اور شام میں میزائل داغے۔ ایران کے جیش العدل پرحملے کے نتیجے میں کم از کم دو بچوں کی المناک موت واقع ہوئی۔ اس کے جواب میں پاکستان نے فوی جوابی کارروائی کرتے ہوئے ایران کے صوبہ سیستان بلوچستان پر حملے کیے، جس کے نتیجے میں کم از کم نو افراد ہلاک ہوئے.

یہ حقیقت ہے کہ پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے، اس پر ایران کا حملہ عالمی سطح پر بھی بات ہوئی، تجزیہ کار ان جارحانہ چالوں کی وجہ ایران کو درپیش بڑھتے ہوئے اندرونی اور بیرونی دباؤ کو قرار دیتے ہیں۔ اسرائیل کے ہاتھوں سید رازی موسوی کا حالیہ قتل، اس کے بعد ایران کے IRGC کے مرحوم سربراہ قاسم سلیمانی کی یادگار پر حاضری دینے والے سوگواروں پر تباہ کن حملہ، جس کا دعویٰ افغانستان کی ISIL نے کیا ، ہو سکتا ہے کہ ایران کو مزید حملوں کا خطرہ ہو، مزید برآں، جیش العدل کی جانب سے راسک پولیس اسٹیشن پر حملے کی ذمہ داری قبول کرنے، جس کے نتیجے میں 11 ایرانی سیکورٹی اہلکار ہلاک ہوئے تھے نے مزید تناؤ پیدا کر دیا۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں ایران کی جانب سے ممکنہ انٹیلی جنس کی کمی کو ظاہر کرتی ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان اپنی سرحدوں میں سرگرم عسکریت پسند گروپوں کے بارے میں مسلسل شکایات کے باوجود، صورتحال سفارتی تعلقات منقطع کرنے کی حد تک نہیں بڑھی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان پر ایران کے حملے کے روز ہی نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کو ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم کے اجلاس کے موقع پر ایرانی وزیر خارجہ حسین امیرعبداللہیان سے مصافحہ کرتے ہوئے دیکھا گیا۔ دونوں ممالک آبنائے ہرمز اور خلیج فارس میں بیک وقت مشترکہ بحری کارروائیاں کر رہے تھے۔

جہاں ایران کے حملے کو امریکہ اور اسرائیل کے لیے ایک پیغام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، وہیں پاکستان کا فوری ردعمل افغانستان کو ایک اشارہ دیتا ہے۔ چین کے دونوں ممالک میں مفادات کے ساتھ ہر طرح کے تصادم کا خطرہ قابل فہم نہیں لگتا۔ امید ہے عالمی برادری کشیدگی کو مزید بڑھنے سے پہلے کم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔

Leave a reply