fbpx

یورپ میں شدید گرمی کی لہر جاری، برطانیہ میں آج بھی درجہ حرارت بلند رہنے کی وارننگ

یورپ میں ان دنوں گرمی کی شدید لہر جاری ہے جس سےگزشتہ کئی دہائیوں کے ریکارڈ ٹوٹ گئے جبکہ برطانیہ میں آج بھی درجہ حرارت بلند رہنے کی وارننگ جاری کی گئی ہے۔

باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق برطانیہ میں کل سال کا گرم ترین دن رہا جبکہ فرانس کے کئی شہروں میں گزشتہ کئی دہائیوں کے ریکارڈ ٹوٹ گئے ہیں آئر لینڈ اورنیدرلینڈز کے کئی شہروں میں بھی شدید گرمی ہے، بیلجیئم میں بھی درجہ حرارت 40 ڈگری تک جانے کی پیش گوئی کی گئی ہے پرتگال اور اسپین میں ایک ہفتے میں شدید گرمی سے 1 ہزار سے زائد اموات رپورٹ ہوئی ہیں-

فرانس کے مغربی اٹلانٹک ساحلی شہر بریسٹ میں پیر کے روز گرمی کا 20 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا، بریسٹ میں درجہ حرارت39.3 ریکارڈ کیا گیا فرانسیسی شہر بریسٹ میں اس سے قبل 2002 میں درجہ حرارت 35.1 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا تھا۔

اس کے علاوہ فرانس کے شمال مغربی علاقے سینٹ بریوک میں درجہ حرارت 39.5 ڈگری کو چھوگیا،شہر میں اس سے قبل زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 38.1 تک ریکارڈ کیا گیا تھافرانس کے ایک اور مغربی شہرنانٹیس میں گرمی کا 73 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا،جہاں درجہ حرارت 42 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا فرانس کے شہر نانٹیس میں اس سے قبل 1949 میں درجہ حرارت 40.3 ریکارڈ کیا گیا تھا۔

خیال رہے کہ یورپ کے بیشتر حصوں میں ہیٹ ویوز کی وجہ سے درجہ حرارت 40 سے 50 ڈگری کے درمیان پہنچ چکا ہے ۔

دوسری جانب فرانس، پرتگال اور اسپین کے جنگلات میں شدید گرمی کے باعث آگ بھڑک اٹھی، پرتگال میں جنگلات کا 75ہزار ایکڑ اور فرانس میں 22 ہزار ایکڑ حصہ آگ کی لپیٹ میں آگیا، متاثرہ علاقوں سے ہزاروں افراد نے نقل مکانی شروع کر دی ہے۔