fbpx

یورپی یونین کا افغانستان میں سفارتخانہ کھولنے کا اعلان

یورپی یونین نے محدود عملے کے ساتھ افغانستان میں سفارتخانہ کھولنے کا اعلان کیا ہے-

باغی ٹی وی : ترجمان یورپی یونین پیٹر اسٹانو کے مطابق افغانستان میں انسانی بنیادوں پر امداد کیلئے سفارتخانہ کھول رہے ہیں،یورپی یونین افغانستان کو اس وقت انسانی بحران کا سامنا ہے-

ترجمان یورپی یونین پیٹر اسٹانو کا کہنا تھا کہ امداد کی فراہمی کیلئے کابل میں محدود ترین سطح پر موجودگی یقینی بنانے کا فیصلہ کیا ہے تاہم طالبان حکومت کو یورپی یونین نے تسلیم نہیں کیا ہے-

افغانستان میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے طالبان کمانڈرسمیت 6 افراد ہلاک

دوسری جانب انسانی حقوق پرطالبان اورمغربی ممالک کے درمیان اجلاس آئندہ ہفتے ناروے میں ہوگا غیرملکی خبرایجنسی کے مطابق ناروے کے وزارت خارجہ کے مطابق طالبان وفدانسانی حقوق پرمذاکرات کے لئے آئندہ اوسلو آئے گا۔

انسانی حقوق کی صورتحال پرطالبان کے ساتھ امریکا، برطانیہ، فرانس ،اٹلی اوریورپی یونین کے نمائندوں کے مذاکرات متوقع ہیں۔

ناوے کی وزارت خارجہ نے مزید کہا کہ طالبان وفد کی ناروے آمد کا مقصد یہ نہیں کہ طالبان کوتسلیم کرلیا گیا ہے لیکن جو لوگ ایک ملک چلا رہے ہیں ان سے مذاکرات ہونے چاہئیں۔

کے 8 مزاحمتی جنگجو ہلاک

واضح رہے کہ حال ہی میں افغانستان کے وزیراعظم مولوی محمد حسن اخوند نے تمام حکومتوں بالخصوص مسلم ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ طالبان کی حکومت کو تسلیم کریں افغانستان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد مقرر کردہ نگراں وزیر اعظم ملا حسن اخوندزادہ نے عہدے سنبھالنے کے 4 ماہ بعد حال ہی میں پہلی پریس کانفرنس کی اس اہم پریس کانفرنس میں وزیراعظم ملا حسن اخوند زادہ کے ہمراہ افغانستان میں اقوام متحدہ کے پروجیکٹس کے انتظامی امور کی نگرانی کرنے والے ارکان بھی موجود تھے۔

امریکی صدرکے افغانستان میں ناکامی اور انخلا بیان پر طالبان کا ردعمل

وزیراعظم ملا محمد حسن اخوند نے کابل میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسلمان ممالک سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ ہماری حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے میں پہل کریں، اس افغانستان کو تیزی سے ترقی کرنے میں مدد ملے گی ایسا ہم اپنی سیاست کے لیے نہیں بلکہ افغان عوام کے لیے چاہتے ہیں-

اسلامی ممالک ہماری حکومت کو تسلیم کریں، طالبان