عملی طور پر سیکورٹی چیکنگ با کرنے والے اہلکاروں کے خلاف سی پی او راولپنڈی نے سخت حکم جاری کردیا

عملی طور پر چیکنگ نا کرنے والا گھر جائے گا, فیصل رانا

راولپنڈی: سٹی پولیس آفیسر ڈی آئی جی محمد فیصل رانا نے ائیر پورٹ،ریلوے اسٹیشن سمیت حساس مقامات پر پولیس سیکورٹی مذید سخت کرنے کے احکامات دے دئیے،اقلیتوں کی عباد ت گاہوں پر سیکورٹی کو روزانہ کی بنیاد پر چیک کیا جائے،جن مقامات پر سیکورٹی کے ایس او پیز کے تحت سی سی ٹی وی کیمرے لگے ہیں ان کے فنگشنل ہونے کو یقینی بنایا جائے،جو پولیس افسران سیکورٹی معاملات کی چیکنگ عملی طور پر کرنے کی بجائے کاغذوں میں کریں گے انہیں قانون کے مطابق محکمانہ احتسابی کارروائی کے بعد برخاستگی کا کاغذ تھما کر گھر بھیج دیا جائے گا،ان خیالات کا اظہار انہوں نے سی پی او آفس میں سیکورٹی معاملات کے حوالے سے بلائے گئے پولیس افسران کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا جس میں ایس ایس پی،ایس پیز اور ڈی ایس پیز سمیت متعلقہ پولیس افسران کی بڑی تعداد نے شرکت کی،سی پی او فیصل رانا نے کہا کہ ائیر پورٹ،ریلوے اسٹیشن،عوامی پارکس،ٹرانسپورٹ کے اڈے اور اس جیسے کئی مقامات ایسے ہیں جہاں پر عوام کی آمد و رفت راؤنڈ دی کلاک24/7ہوتی رہتی ہے،جن مقامات کی اندرونی سیکورٹی پولیس کی بجائے متعلقہ اداروں کے پاس ہے ان مقامات کی بیرونی سیکورٹی کی ذمہ دار تو پولیس ہی ہے،ایئر پورٹ کے باہر پولیس کو سیکورٹی کے ایسے انتظامات کرنا ہوں گے کہ اندر جانے والے مسافر کے پا س کوئی ایسی چیز نہ ہو جو قانون شکنی یا سنگین واردات کے وقوع پذیر ہونے کا باعث بن سکتی ہو،انہوں نے کہا کہ ائیر پورٹ،ریلوے اسٹیشن سمیت اس جیسے پبلک مقامات پر سیکورٹی کا متعلقہ ایس پی اپنے ایس ڈی پی او ز اور ایس ایچ اوز کے ساتھ مل کر از سر نو جائزہ لے،سیکورٹی کے حوالے سے پولیس کو جن وسائل کی ضرورت ہو گی میں مہیا کروں گا،انہوں نے کہا کہ سی سی ٹی کیمرہ جات ایسی ٹیکنالوجی ہے خدانخواستہ کسی سنگین واردات ہونے کی صورت میں وہاں سے کئی ایسے شواہد مل جاتے ہیں جو واردات کو فوری طور پر ٹریس کرنے میں ممد معاون ہو تے ہیں ضرورت اس امر کی ہے ان کیمروں کو 24/7فنگشنل رکھا جائے،پولیس روزانہ کی بنیاد پر ان کیمروں کے فنگشنل ہونے کو چیک کرے،بینکوں اور مالیاتی اداروں میں سی سی ٹی کیمروں کا فریش اور فنگشنل رہنا اور بھی ناگزیر ہو،پولیس افسران کان کھول کر سن لیں کہ بینکوں میں کسی قسم کی ڈکیتی یا چھینا چھپٹی کی واردات ناقابل برداشت ہے پولیس ایسے انتظامات کرے کہ کسی کو مالیاتی اداروں میں بدنیتی کے ساتھ داخل ہونے کی ہمت نہ ہو،سی پی او نے کہا کہ اقلیتوں کی عبادت گاہوں کا تحفظ ہماری اولین ذمہ داری ہے،ایس پیز،ڈی ایس پیز اور ایس ایچ اوز مسیحی برادری کے چرچز سمیت تمام اقلیتوں کی عبادت گاہوں میں سیکورٹی چیکنگ کو معمول بنا لیں بالخصوص جن ایام اور اوقات میں ان عبادت گاہوں میں اقلیتی برادری اپنی عبادات کے لئے آئے یہاں پرایسے فول پروف سیکورٹی انتظامات ہوں کہ اقلیتی برادری اس سے مطمئن ہو،سی پی او نے کہا کہ مشاہدے میں آیا ہے کہ پولیس افسران سیکورٹی چیکنگ عملی طور پر نہیں کرتے بلکہ کاغذوں میں سیکورٹی چیکنگ کرتے ہیں،میں خود تمام مقامات کی سیکورٹی چیکنگ کروں گا اگر عملی طور پر چیکنگ نہ پائی گئی تو قانون کے مطابق محکمانہ احتسابی عمل کے بعدذمہ داروں کو برخاستگی کا کاغذ تھما کر گھر بھیج دیا جائے گا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.