قوم نے فیض آباد دھرنا کیس میں ناانصافی کا خمیازہ 9 مئی کے واقعات کی صورت بھگتا، سپریم کورٹ

0
218
supreme court01

9 مئی کے پر تشدد واقعات فیض آباد دھرنے کیس پر عملدارمد نہ کرنے کی وجہ سے سامنے آیا ، سپریم کورٹ نے فیض آباد دھرنا عمل درآمدکیس کی گزشتہ روز (15 نومبر) کی سماعت کا حکم نامہ جاری کردیا ہے جس میں عدالت نے 9 مئی کے واقعات کا حوالہ بھی دیا ہے۔ فیض آباد دھرنا کیس کے فیصلے کو مختلف حکومتوں نے 5 سال تک نظر انداز کیا، حکم نامے میں چیف جسٹس پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے آبزرویشنز دیں کہ ماضی کے پرتشدد واقعات کے لیے نہ کسی کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا اور نہ ہی کوئی کارروائی ہو سکی،کوئی حیرت کی بات نہیں کہ فیصلے پر عمل نہ ہونے سے ذاتی مقاصد کے لیے پرتشدد واقعات کرنا معمول بنا، اس سے آزاد عدلیہ اور بہتر پاکستان کے لیے جد و جہد کرنے والے متاثرین کے ساتھ بھی ناانصافی ہوئی، قوم نے ناانصافی کا خمیازہ 9 مئی کے واقعات کی صورت بھگتا۔ حکمنامے میں کہا گیا کہ فیض آباد دھرنے کے فیصلے کیخلاف نظرثانی درخواستیں دائر ہوئیں جنہیں سماعت کیلئے مقرر نہ کیا گیا جس کے سبب عدالتی فیصلے پر عمل درآمد نہ ہوا۔
سپریم کورٹ نے حکم نامے میں کہا کہ شیخ رشید کے وکیل نے کہا میں نظرثانی درخواست واپس لینا چاہتا ہوں۔ عدالت نے بار بار پوچھا درخواست دائر کیوں کی، شیخ رشید کے وکیل نے جواب دیا غلطی فہمی کے سبب نظرثانی دائر کی۔ حکم نامے میں کہا گیا کہ تعجب ہے ایسا سیاست دان جو طویل عرصہ تک رکن پارلیمنٹ رہا اور وفاقی وزیر جیسے اعلیٰ منصب پر فائز رہا اسے غلط فہمی ہوگئی، جس کے سبب نظرثانی درخواست دائر کی، عدالت نے یہ بھی پوچھا کیا شیخ رشید نے نظرثانی درخواست کسی کے کہنے پر دائر کی، جواب دہرایا گیا نظرثانی درخواست غلطی فہمی کی بنا پر دائر کی۔عدالتی حکمنامے میں نیا انکشاف سامنے آگیا جس کے مطابق 25 اپریل 2019کو سابق چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی ہدایت پر درخواستیں کاز لسٹ سے نکال دی گئیں۔
حکم نامے میں سپریم کورٹ نے 4 سال 8 ماہ تک کیس مقرر نہ کرنے پر ذمہ داری قبول کرتے ہوئے قرار دیا کہ سپریم کورٹ اپنے اوپر عوام کا اعتماد بحال کرنے کے لیے اتنے سال کیس مقرر نہ ہونے اور ہیر پھیر کرنے کی ذمہ داری تسلیم کرتی ہے، سپریم کورٹ قرار دیتی ہےکہ ماضی کی غلطیاں نہیں دہرائی جائیں گی، سچ آزاد کرتا ہے اور اداروں کو مضبوط بناتا ہے، پاکستانی عوام کا حق ہے کہ ان تک سچ پہنچایا جائے۔
عدالت نے کہا ہے کہ ہر ادارے کا فرض ہے کہ وہ ذمہ داری اور شفافیت کا مظاہرہ کرے، اداروں سے غلطی ہو تو اس کو تسلیم کرنا چاہیے، عوام کا اداروں پر عدم اعتماد آمریت کو فروغ اور جمہوریت کی نفی کرتا ہے، اپنے اداروں کو داغدار کرنے والے اداروں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچانے کے ساتھ اپنی انا کی تسکین کرتے ہیں۔حکمنامے میں کہا گیا کہ نظرثانی درخواستیں سماعت کیلئے مقرر نہ ہونے پر متعلقہ عدالتی حکام سے پوچھا گیا، ایڈیشنل رجسٹرار فیکچر اور ایڈیشنل رجسٹرار جوڈیشل نے اپنی رپورٹس دیں، جن کے مطابق 25 اپریل 2019کو نظرثانی درخواستیں فائنل کاز لسٹ کے ڈرافٹ میں دن ایک بج کر بارہ منٹ پر شامل ہوئیں، اسی دن محض پانچ گھنٹے بعد اس وقت کے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی ہدایت پر شام پانچ بج کر چھ منٹ پر یہ درخواستیں فائنل کاز لسٹ سے نکال دی گئیں۔حکم نامے میں مزید کہا گیا ہےکہ یہ یاد دلانا ضروری نہیں ہےکہ سپریم کورٹ کے ہر حکم پر عمل درآمد کرانا ضروری ہے، فیض آباد دھرنا فیصلے پر تمام نظرثانی درخواستیں واپس لینے کی بنیاد پر نمٹائی جاچکی ہیں، اب یہ دیکھنا ہوگا کہ فیض آباد دھرنا فیصلے پر عمل درآمد نہ کرنے والوں کے خلاف کیوں نہ توہین عدالت کی کارروائی کی جائے۔عدالت نے ہدایت کی ہے کہ الیکشن کمیشن ٹی ایل پی کی فارن فنڈنگ کے متعلق ایک ماہ میں رپورٹ جمع کروائے، شیخ رشید کی نظر ثانی درخواست اور ابصار عالم کی متفرق درخواست واپس لینے کی بنیاد پر خارج کی جاتی ہے۔

فیض آباد دھرنا فیصلے پر عمل درآمد کیس کی مزید سماعت 22 جنوری 2024 کو ہوگی۔

Leave a reply