جعلی مکھیوں سےاصلی مکھیوں کواپنی طرف راغب کرنے والا پھول

0
46

ماہرین نباتات کو جنوبی افریقہ میں گلِ داؤدی کے پھول کی ایک قسم میں ایسے خاص جین ملے ہیں جن سے پتیوں پر مکھیوں کے نقوش بن جاتے ہیں اس پھول کا نام ’گورٹیریا ڈیفیوزا‘ ہے مادہ مکھی کے ان نقوش کو دیکھ کر نر مکھیاں وہاں آتی ہیں اور یوں پھول کی افزائش و بارآوری بڑھتی رہتی ہے۔

باغی ٹی وی: کرنٹ بائیولوجی میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق کئی عشروں کی تحقیق کے بعد معلوم ہوا ہے کہ وہ خاص جین کی بدولت پتیوں پرایسے ڈیزائن بناتا ہے کہ دور سے دیکھنے پر ان پر حقیقی مکھی کا گمان ہوتا ہے، تین اہم جین کی بدولت وہ اس قابل ہوا ہے کہ خود پر جعلی تھری ڈی مکھی کی تصاویر کاڑھ سکتا ہےاس سے قبل سائنسداں حیران تھے اور اس پر غور کررہے تھے۔

پچر پلانٹ کی طرح دو نئے گوشت خور پودے دریافت


اس گل داؤدی کی پنکھڑیوں کا دائرہ ہلکے پیلے رنگ سے لے کر روشن سرخ نارنجی تک ہوتا ہے، کچھ ایسے دھبے ہوتے ہیں جو پھول کے مرکز کے گرد دائرہ بناتے ہیں،ان پھولوں کی ظاہری شکل بہت مختلف ہوتی ہے-

نودریافت شدہ جین کے تین سیٹ اگرچہ پھول کے دیگر کام بھی کرتے ہیں لیکن یہ گلِ داؤدی کی پٹیوں پر جعلی مکھیوں کی اشکال بھی بناتے ہیں۔ ویسے یہ جین پتیوں کی تشکیل اور پودے کی جڑوں سے فولاد کی فراہمی بھی ممکن بناتے ہیں فولاد کی فراہمی سے پتیوں کا رنگ بھی بدلتا ہے اور جعلی مکھی کے خدوخال بنتےہیں پھر مزید فولاد سے مکھی کے منہ کے کنارے پر ایسے نقوش بنتے ہیں جو دیکھنے میں شہد کی مکھیوں کے بال معلوم ہوتےہیں۔

اگر پودوں کو مناسب مقدار میں پانی نہیں دیاجائے یا کاٹا جائے تو وہ آہ …


اس تحقیق میں شامل محقق جامعہ کیمبرج کے پروفیسر بیورلے گلوور کے مطابق اس چالاکی سے پھول مکھیوں کو اپنی جانب راغب کرتے ہیں جو زردانوں کو دور تک لے جاتے ہیں اور اس کی افزائش بڑھتی ہےنرمکھیاں کچھ دیر جعلی مکھیوں سے خود کو رگڑتے ہیں اور یوں ان پر زردانے چپک جاتے ہیں۔

گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج سےانٹارکٹیکا برف کا پگھلاؤ عالمی سمندری نظام درہم برہم کرسکتا …

Leave a reply