fbpx

فرزانہ سلیمان ہمت کا نشان حُسنِ قدرت

پاکستان کی پہلی نابینا پی ایچ ڈی ڈاکٹر اور مصنفہ ڈاکٹر فرزانہ سلیمان کی زندگی کے بارے میں آج میں آپ کو بتاؤں گی
وہ لوگ جو کسی جسمانی معذوری کو روگ بنا کر بیٹھے ہوئے ہیں ان کے لئے ایک بہترین مثال ڈاکٹر فرزانہ سلیمان ہیں جن کی بصارت ہی چلی گئی

محترمہ فرزانہ سلیمان ایک نارمل بچی پیدا ہوئیں انکا تعلق کراچی سے ہے جب وہ آٹھویں جماعت میں پہنچیں تو ٹائیفائیڈ انکی بصارت چرا گیا اب زندگی انہیں دشوار لگنے لگی اور یہ بھی اب پڑھائے گا کون لیکن انہوں نے ہمت نہیں ہاری نہم اور دہم جماعت کا امتحان پرائیویٹ دیا ،سینٹ لارنس کالج سے انٹر اور جوزف کالج سے گریجویشن کی ،فلسفے میں ماسٹرز کیا تو احساس ہوا کہ یہ مضمون انکے مزاج کے مطابق نہیں پھر انہوں نے اسلامک اسٹڈیز میں ایم اے کیا
ماسٹرز مکمل ہوتے ہی ” گورنمنٹ کالج پی ای سی ایچ کالج کراچی” میں اسلامک اسٹیڈیز کی لیکچرر ہوئیں
لیکن
انکا خواب پی ایچ ڈی کرنے کا تھا تو انہوں نے کراچی یونیورسٹی میں ایڈمیشن لیا اور پی ایچ ڈی مکمل کی اس دوران انکی دوست سارہ نے انکی بہت مدد کی وہ انہیں کتابیں پڑھ پڑھ کر سنایا کرتی تھی
ڈاکٹر فرزانہ سلیمان نے قرآن کریم حفظ کیا ،تفسیر کا مطالعہ کرتی رہیں اور اب تک 4 کتب تصنیف کر چکی ہیں جن کے نام یہ ہیں
1۔قرآن،قرآن کی روشنی میں
2۔توبہ قرآن کی روشنی میں
3۔تقوی قرآن کی روشنی میں
4۔تذکرہ آدم قرآن کی روشنی میں
شامل ہیں
ڈاکٹر فرزانہ کو بے مثال کارکردگی پہ کئی شیلڈز،تمغے اور اعزازات حاصل ہوئے جن میں سابق صدر (ر) پرویز مشرف کے دور میں ملنے والا "فاطمہ جناح گولڈ میڈل”
اور گورنر سندھ سے ملنے والا
"تمغہ حُسنِ کارکردگی”
نمایاں ہیں
یہ کہانی کروڑوں لوگوں کےلئے ایک سبق ہے کہ اگر آپ میں ہمت ہے اور آپ کچھ کرنا چاہتے ہیں تو ڈاکٹر فرذانہ کی طرح اپنے حوصلے بلند رکھیں آپ ضرور کامیاب ہوں گے

Twitter: @HusnHere